Home / Buffalo & Cows / پاکستان کی دریائی بھینسوں کی بریڈز

پاکستان کی دریائی بھینسوں کی بریڈز

پاکستان کی دریائی بھینسوں کی بریڈز
برصغیر پاک و ہند میں دریائی بھینسوں کی بریڈ انتہائی قدیم ہے۔ ہر دریائی علاقے میں بھینسوں کی بریڈ پائی جاتی رہی ہے۔ سندھ، جہلم، چناب، راوی اور ستلج کے دریاؤں میں دریائی بھینسوں کی بریڈ پائی جاتی تھی جس کو 5000 سال پہلے گھریلو بھینس کے طور پر سدھایا گیا۔ چناب اور جہلم کی بیلٹ دو دریاؤں کے درمیان آمد و رفت کی آسانی تھی، اور راوی و ستلج دو دریاؤں کے درمیان آمد و رفت آسان تھی۔ تاہم سندھ کی دریائی بیلٹ ان دونوں علاقوں سے فاصلے پر واقع تھی۔ تو اس طرح پاکستان کے موجودہ علاقہ جات میں بھینسوں کےدریائی نسلیں تین جغرافیائی حدود میں موجود تھیں۔
1. سندھ کے بیلے اور دریائی بیلٹ
2. چناب اور جہلم کے بیلے اور دریائی بیلٹ
3. راوی اور ستلج کے بیلے اور دریائی بیلٹ
چناب اور جہلم کی نسلیں آپس میں انٹربریڈنگ کرتی رہی ہیں، ستلج اور راوی کی نسلیں آپس میں انٹر بریڈنگ کرتی رہی ہیں لیکن یہ بریڈنگ صرف کنٹرول بریڈنگ میں ممکن ہو سکی جب انسان نے اس جنگلی دریائی جانور کو سدھایا اور گھریلو جانور کا درجہ میں آئیں۔ تا ہم سندھ کی نسل اس انٹر بریڈنگ کے نظام میں نہیں آ سکی کیونکہ سندھ کے بیلے جغرافیائی طور پر ان دونوں دریاؤں سے دور تھے۔
15ویں صدی عیسوی میں لاشاری اور رند کے قبائل میں 30 سال پر محیط قبائلی جنگوں کے بعد میر چاکر رند نے بلوچستان سے ملتان ہجرت کی جو ایک مستند تاریخی ہجرت موجود ہے۔ تو پندرہویں صدی عیسوی میں سندھ کے جانور پنجاب میں لائے گئے۔



لیکن پھر بھی ان کی انٹر بریڈنگ بہت معدوم حد تک رہی، تاہم 19 ویں صدی عیسوی میں جیسے جیسے ذرائع آمد و رفت عام ہوتے گئے، اسی طرح لوگوں اور جانوروں کی ہجرت بڑے پیمانے تک ہونے لگی۔ 1950 تک یہ ایک محدود پیمانے پر رہی اور 1950 تک راوی، ستلج، چناب اور جہلم کی بھینسیں اپنا تشخص برقرار رکھے ہوئے تھیں۔ 1950 کے بعد پھر ایک بڑے پیمانے پر بریڈنگ پلان تبدیل ہوئے اور یہ نسلیں کراس ہونا شروع ہوئیں۔ نیلی یعنی ستلج کی نسل راوی کے ساتھ کراس بریڈ ہو کر نیلی راوی کے نام سے منسوب ہوئی اور باقی دیگر اپنے ناموں سے منسوب رہیں۔
پاکستان، انڈیا، سری لنکا یہ تین ایسے ممالک ہیں جہاں کی یہ نیلی راوی لوکل بریڈ مانی جا سکتی ہے کیونکہ ان کی جغرافیائی حدود ایک ہیں۔ تاہم ان تینوں ملکوں کے پاس نیلی راوی کے جنیٹکس بینک نہیں ہیں کہ مستند طریقے سے اس نسل کو کسی ایک شخص، خاندان سے منسوب کرنا ناممکن ہے۔ جو ایسا کرتے ہیں ان کے پاس کوئی مستند ثبوت نہیں ہے۔ یہ علاقائی نسلیں ہیں، کرونولوجیکل ایوولوشن کے تحت بریڈ ہوئی ہیں۔ کسی خاص بریڈنگ پلان کے تحت ان کو بریڈ نہیں کیا گیا اور ساتھ یہ کہ قدیم نسلیں ہیں۔ تاہم 70 کے بعد سائنس، میڈیا، علم عام ہونے سے چند ایسے خاندان ضرور ہیں جنہوں نے ان کرونولوجیکل بریڈز کو لاک کیا، مزید مکسنگ سے بچایا اور بہتر بنایا۔ اس میں بھی فینو ٹائپ کا لحاظ زیادہ رکھا گیا بنسبت جینوٹائپ کے کیونکہ آج تک پاکستان میں کوئی مستند جنیکٹس ریسرچ لیبارٹریز نہیں ہیں کہ کسی جانور کی جینیاتی پیورٹی کو ویٹ کیا جا سکے۔
ضروری نہیں یہ معلومات صحیح ہوں، آپ کی رائے مختلف ہو سکتی ہے۔

About admin

Check Also

جدید ڈیری فارمز کی ناکامی کی وجوہات

جدید ڈیری فارمز کی ناکامی کی وجوہات پچھلے3-5 سالوں سے ڈیری کو بزنس کے طور پر …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *