Home / Buffalo & Cows / دودھ کی پیداوار اور ونڈے کا استعمال

دودھ کی پیداوار اور ونڈے کا استعمال


دودھ کی پیداوار اور ونڈے کا استعمال
آج کل مارکیٹ میں طرح طرح کے ونڈے اورماہرین با آسانی دستیاب ہیں۔ہر ونڈے کی اپنی افادیت
اور ہر ماہر کی اپنی راے ہے لیکن یہ دونوں چیزیں اسی وقت کامیاب ہوں گی جبکہ یہ قا بل اعتبار اور کسی
اصول پر مبنی ہوں۔ میں آج مختصراَ اس پر روشنی ڈالوں گا۔یہ شعبہ ہر کسی کے بس کا نہیں ہے۔ اور نہ
ہی تر جمہ شدہ مواد آپکے ماہر ہونے کی دلیل ہے۔
ونڈے کے استعمال کے متعلق کوئی کہتا ہے تین کلو دودھ پر ایک کلو ونڈہ دیں کوئی ڈھائی کلو دودھ پر ایک کلو ونڈے کی سفارش کرتا ہے۔ یہ سب ٹھیک ہےلیکن انکی سفارشات کس بنیاد پر ہیں؟ آج ہم اس پربات کرتے ہیں.جانورکو جو کچھ بھی کھلایا جاتا ہےوہ جسم کےاندر جا کر دو قسم کی ضروریات پورا کرتا ہے۔
۱۔ جسم کو قائم رکھنے کی ضروریات
۲۔پیداواری ضروریات



جانور کیلئے سب سے زیادہ اہم اس کے اپنے جسم کی ضروریات ہیں جسکو انگلش میںMaintenance requirement کہتے ہیں۔ اگر یہ پوری نہ ہوں توجانور کے جسم کے عضلات ڈھل کر انرجی کی ضروریات پورا کرتے ہیں اورجانورکا وزن کم ہو جاتا ہے۔اِن ضروریات کو آپ کم یا روک نہیں سکتے کیونکہ یہ جسم کے عضلات کی توڑ پھوڑ کی مرمت اور ایسےجسمانی عملوں کے لیے ضروری ہے جنکے اوپر جانور کا اپنا کوئی کنٹرول نہیں ہوتا مثلا دِل کی دھڑکن،جگر،معدے، پھیپھڑوں اور گردے کے عملات۔
اگر ان عوامل کی ضروریات پورا ہونے کے بعد اگر کوئی انرجی بچتی ہے تو ہو پیداوار کے لیےاستعمال ہو گی۔ ایسےفارمولے موجود ہیں جو اس پیداوار)دودھ یا گوشت(کو ناپ سکتے ہیں۔مثلا اگر 250 کلو کا بچھڑا 12 MJ کا راشن کھاتا ہے اور جسمانی ضروریات کی انرجی نکال کے اس کے پاس 19 میگا جول انرجی بچتی ہے تو وہ0.6 کلو روز کے حساب سے وزن حاصل کریں گے۔
اب ہم فیڈنگ کے دوسرے رخ پر آتے ہیں۔جانور کی خوراک میں انرجی اور پیداوار کی شکل میں انرجی برابر ہونی چاہیے یعنیOutput=Inputلیکن ہر جانور دودھ کی شکل میں ایک جیسی انرجی خارج نہیں کرتا لہذا یہ کہنا کہ دع کلو دودھ پر ایک کلو ونڈہ دیں یہ غلط ہے۔ اصل چیز یہ ہے کہ دودھ میں کتنی انرجی خارج کر رہا ہے اور خوراک میں کتنی انرجی حاصل کر رہا ہے۔
ہر جانور کے دودھ کی کمپوزیشن دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ لہذا ہر جانور دودھ میں مختلف انرجی خارج کرتا ہے۔ہر جانور کا وزن بھی مختلف ہوتا ہے لہذا جسمانی ضروریات بھی مختلف ہوتی ہیں۔ لہذا جانور کی مکمل ضروریات کو معلول کرنے کے لیے ہم جسمانی ضروریات اور پیداواری ضروریات کو جمع کرتے ہیں تو ہمارےپاس متعلقہ جانورکی مکمل ضروریات آ جاتی ہیں جنکو ہم خوراک کے زریعے پورا کرتے ہیں۔ان مکمل ضروریات کو معلوم کیے بغیرفیڈنگ ایک قسم کا تکا ہے جو یا تو کم خوراکی ہو گا یا ضرورت سے زیادہ انرجی ہم جانور کو دے رہے ہوں گے۔
کم انرجی دینے کی صورت میں جانور وزن کم کرے گا، پیداوار کم ہو گی اور دوسری پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔ جبکہ زیادہ انرجی دینے کی وجہ سے جانور موٹا اور چربیلا ہو جاتا ہے جو کہ ایک قسم کا معاشی نقصان ہے۔دودھ میں انرجی دو اقسام کی ہوتی ہیں ۱۔ چکنا ئی (fat) ۲۔(SNF) یعنی چکنائی کے علاوہ انرجی ۔یہ دونوں اقسام کی انرجی معلوم کرنے کے مختلف پروگرام ہیں جن کے ذریعے ہم انکو ناپ سکتے ہیں اور اس کےمطابق راشن کو تیار کر سکتے ہیں۔یہ سب سے ذیادہ معاشی طور پر فائدہ مند طریقہ ہے۔اس طریقے میں جانور کو زمانہ حمل کے دوران جتنی انرجی چاہیے وہ بھی معلوم کی جا سکتی ہے اور راشن میں دی جا سکتی ہے۔
بچہ دینے کے بعد پہلے دس سے بارہ ہے تک دودھ کی پیداوار بڑہتی ہے جسکو خوراک کے ذریعے پورا نہیں کیا جا سکتاہے۔ چنانچہ جانور کے عضلات انرجی میں تبدیل ہو کر دودھ کی پیداوار کو انرجی مہیا کرتے ہیں۔ اس لیے اِس دوران جانور نیگیٹو انرجی میں ہوتا ہے۔ جونہی پیداوار میں کمی پیدا ہونا شروع ہوتی ہے)جو کہ تقریبا دس فیصد فی ماہ ہوتی ہے(تو انرجی فالتو ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ خوراک کھانے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے اور جانور پوزیٹو انرجی میں آ جاتا ہے۔دودھ میں کمی کی وجہ سے جو انرجی فالتو ہوتی ہے وہ بچےکی نشونما میں استعمال ہوتی ہے۔ جانور وزن بڑہانا شروع کر دیتا ہے۔ اگر 3.5- 4بی سی ایس سے پروڈکشن شروع کرتا ہےتو خشک وقفہ کے دوران اسکی بی سی ایس دوبارہ اسی معیا رپر پہنچ جانی چاہیے تا کہ اگلا دودھ کا زمانہ بہتر انداز میں آپ حاصل کر سکیں۔ اگر خشک زمانے کے دوران فیڈنگ مکمل نہیں ہے اور اگلی لیکٹیشن میں کم دودھ، کمزور بچہ، پیدائش میں مشکلات اور مختصر دودھ کا دورانیہ آپ کے لیے تیار ہے۔
فیڈنگ صرف سبز چارہ دینے اور ونڈہ دینے کا نام نہیں ہے بلکہ اس کے علاوہ بہت سے دوسرے عوامل بھی ہیں جنکو صرف ماہر ہی سمجھ سکتا ہے۔ جب تک آپکومینجمنٹ کے سارے اصول ،جانور کی فزیالوجی، ریپروڈکشن، دودھ دینے کےمختلف ادوار کا علم نا ہو۔فیڈنگ کرنا یا اس پر مشورہ نہایت مشکل اور غیر مناسب ہے۔ لہذا جانور سے مکمل پیداوار لینے کے لیے کسی ماہر سے مشورہ کرنا انتہائی ضروری ہے۔ یاد رہے کہ ماہرین فیس بک پر پوسٹ چڑھانے سے نہیں ملتے۔ فارمولاجات کسانوں کے لیے نہیں ایکسپرٹ کے لیے ہوتے ہیں۔فارمرز کو انکی پریشانی کا حل چاہیے نا کہ ترجمعہ شدہ مواد۔کسانوں سے میری درخواست ہے کہ نیٹ پر اپنے جانورکا علاج ڈ ہونڈنے کی بجاے قریبی ڈا کٹرز سے رابطہ کریں تاکہ انکے جانور کا بر وقت علاج ہو سکے۔

About admin

Check Also

جانور کی ڈلیوری میں آسانی کیلیے بہت ہی آسان نسخہ

جانور کی ڈلیوری میں آسانی کیلیے بہت ہی آسان نسخہ جانور کی ڈلیوری جانور کی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *