Home / health tips / آدھے سر کے درد سے نجات , پورے سر میں درد سے فوری نجات پانے کا طریقہ

آدھے سر کے درد سے نجات , پورے سر میں درد سے فوری نجات پانے کا طریقہ

آدھے سر کا اذیت ناک درد جسے میگرین بھی کہا جاتا ہے نہایت تکلیف دہ ہوتا ہے جو اپنے مریض کو کسی بھی کام کے قابل نہیں چھوڑتا۔ یہ درد سر کے کسی ایک حصے میں اٹھتا ہے اور مریض کو ناقابل برداشت تکلیف کا شکار بنا دیتا ہے۔
میگرین کا کوئی باقاعدہ علاج نہیں ہے تاہم گھریلو ٹوٹکے اپنا کر وقتی طور پر آرام حاصل کیا جاسکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ میگرین کے مریضوں کو چاہیئے کہ اپنا طرز زندگی ایسا رکھیں جس میں سر درد اٹھنے کا امکان کم سے کم ہو جیسے اسکرینز کا بہت کم استعمال، وقت پر آرام اور دماغ کو زیادہ تھکانے سے گریز کیا جائے۔
جنہیں میگرین ہونے کے وقت اپنا کر آپ اس تکلیف کو کسی حد تک کم کرسکتے ہیں۔
ٹھنڈک سے مدد لیں
آدھے سر کے درد کے وقت سر کو ٹھنڈک پہنچائیں، سب سے بہترین طریقہ ٹھنڈے پانی کا شاور لینا ہے۔
ایک اور طریقہ برف سے مدد لینے کا بھی ہے۔ تولیہ میں برف کے چند ٹکڑے لپیٹ کر 15 منٹ کے لیے ماتھے پر رکھیں، 15 منٹ بعد ہٹا کر دیکھیں سر درد میں واضح کمی محسوس ہوگی۔ اگر سر درد باقی ہے تو 15 منٹ بعد مزید برف رکھیں۔

سر کو آرام پہنچائیں
سر کے بالوں کو جکڑ کر رکھنا بھی سر میں تکلیف پیدا کرتا ہے۔ سر درد کے وقت خواتین کو چاہیئے کہ بالوں کو ڈھیلا کردیں تاکہ مسلز کو آرام مل سکے۔ اسی طرح اگر آپ نے سر پر اسکارف یا ہیٹ پہنا ہوا ہے تو سر درد کے وقت اسے اتار دیں۔
جبڑے کو تکلیف نہ دیں
بعض اوقات بہت دیر تک چیونگم چبانے سے بھی سر درد کا احساس ہوتا ہے، اسی طرح پین یا کوئی سخت چیز چبانے، دانت پیسنے کی عادت بھی سر درد پیدا کرسکتی ہے۔ اس بارے میں ماہر دندان سے رجوع کریں اور اس عادت سے چھٹکارہ پانے کی کوشش کریں۔
مدھم روشنیاں
میگرین کے وقت جس جگہ آپ موجود ہیں وہاں کی روشنیاں مدھم کردیں، کھڑکیوں پر پردے ڈال دیں۔ مستقل سر درد کا شکار رہنے والوں کو کمپیوٹر اور موبائل کی برائٹ نیس کم رکھنی چاہیئے۔
تیز دھوپ میں نکلتے ہوئے سن گلاسز کا استعمال لازمی کریں۔
کافی بہترین حل
سر درد اور تھکن کا فوری علاج کافی ہے، کافی کا ایک بہترین کپ سر درد میں خاصی حد تک کمی کرسکتا ہے۔
سر میں درد سے فوری نجات پانے کا طریقہ
سرد میں درد گو اگر عالمی مسئلہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا، دنیا بھر کے لوگوں کی اکثریت سر کے درد میں مبتلا ہے۔ سر میں درد ہونے کی متعدد وجوہ ہوسکتی ہیں جیسے کام کا دباؤ، پریشانی اور ذہنی تناؤ (ٹینشن) وغیرہ۔ سر میں درد کا شکار صرف مرد حضرات ہی نہیں ہوتے بلکہ خواتین اور بعض اوقات کم عمر نوجوان بھی سر میں درد کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ کیفیت اتنی عام ہوگئی ہے کہ لوگ اس کا علاج کروانے کےلیے اب ڈاکٹرز کے پاس جانے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کرتے
right;”>بلکہ بغیر ڈاکٹری نسخے کے کسی بھی میڈیکل اسٹور سے دوائیاں خرید کر کھالیتے ہیں۔ یہ دوائیاں وقتی طورپرتو اثر کرتی ہیں لیکن جیسے ہی ان کااثر ختم ہوتا ہے، درد دوبارہ شروع ہوجاتا ہے۔ تاہم دردِ سر سے ہمیشہ کےلیے جان چھڑانا ممکن ہے اور اس کےلیے ڈاکٹر کے پاس جانے یا کڑوی دوائیاں استعمال کرنے کی بھی ضرورت نہیں بلکہ جسم کے کچھ حصوں پر مساج کرنے سے صرف 5 منٹ میں سر کے درد سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔
آنکھوں کے درمیان مساج کیجیے سر میں درد کی مختلف شکلیں ہوتی ہیں کسی کو آدھے سر کا درد ہوتا ہے تو کسی کو آنکھوں کے اوپری حصے میں درد کی شکایت ہوتی ہے۔ لہٰذا وہ افراد جو اپنی آنکھوں میں یا ان کے ارد گرد درد محسوس کریں تو انہیں چاہیے کہ دونوں بھنوؤں کے درمیانی حصے پر 60 سیکنڈ تک دائرے کی شکل میں مساج کریں۔ اس طریقے پر عمل کرکے سر کے درد میں فوری آرام آتا ہے۔
سر کے پچھلے حصے کو دبائیے مائیگرین یعنی آدھے سر کے درد سے نجات حاصل کرنے کےلیے سر کے پچھلے حصے میں دو گڑھے محسوس ہوں گے، ان پر انگوٹھوں کی مدد سے دباؤ ڈالیے اور تقریباً 5 منٹ تک اسی حالت میں رہیے۔ اب یہاں پر ہلکے ہاتھ سے مساج کیجیے۔
ہاتھ کے پچھلے حصے پر انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کے درمیان مساج کیجیے یہ مقام ہاتھ کے پیچھے کی جانب انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کے درمیان واقع ہوتا ہے۔ اس پر مساج کرنے سے کمر، دانتوں، جبڑوں اور آدھے سر کے درد میں افاقہ ہوتا ہے۔ ا س کے علاوہ یہ تناؤ کے سبب گردن کے اکڑے ہوئے پٹھوں کو آرام پہنچانے میں بھی مدد کرتا ہے۔
گردن کے پچھلے حصے پر مساج کیجیے گردن کے پچھلے حصے پر جہاں سے کھوپڑی شروع ہوتی ہے، اس سے تھوڑا اوپر کی جانب ہلکے ہاتھ سے مساج کیجیے۔ یہ طریقہ مائیگرین یعنی آدھے سر کے درد میں آرام دلاتا ہے۔
فیس بک
ٹویٹر
لنکڈن
گوگل+
زبردستی گوشت کھلایا کرتا تھا
  ہفتہ   10    نومبر    2018  |  8:07خصوصی فیچرز
بنی اسرائیل میں ایک عورت تھی جس کا نام سارہ تھا۔ وہ جس ملک میں رہتی تھی وہاں کا بادشاہ بڑا ظالم تھا۔ وہ لوگوں کو زبردستی خنزیر کا گوشت کھلایا کرتا تھا جو انکار کرتا اسے قتل کروا دیتا، چنانچہ اس عورت کو بھی اپنے بیٹوں سمیت بادشاہ کے پاس لایا گیا۔ اس نے سارہ کے سب سے بڑے بیٹے کو پاس بلا کر کہا کہ خنزیر کا
گوشت کھاؤ، اس نے کہا میں اللہ تعالٰی کی حرام کردہ چیز کو ہرگز نہیں کھاؤں گا۔ بادشاہ نے جب انکار سنا تو اس کے ہر ہر عضو
کو کاٹ ڈالا شہید کر دیا۔ پھر ظالم بادشاہ نے اس سے چھوٹے لڑکے کو بلایا اور اسے خنزیر کا گوشت کھانے کو کہا۔ اس لڑکے نے بھی جرات ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انکار کیا تو بادشاہ نے طیش و غصہ میں آ
میں آ کر حکم دیا کہ ایک تانبے کی دیگ میں تیل ڈال کر خوب گرم کرو, جب تیل خوب گرم ہو گیا تو ظالم بادشاہ نے اس لڑکے کو کھولتے ہوئے تیل میں ڈال دیا اور وہ شہید ہو گیا۔ پھر بادشاہ نے اس سے چھوٹے لڑکے کو بلایا اور خنزیر کا گوشت کھانے کو کہا تو اس نے کہا کہ اے بادشاہ تو ذلیل و کمزور ہے تو اللہ عزوجل کے مقابلہ میں کچھ نہیں تیرے جی میں جو آئے وہ کر لے لیکن میں اللہ کی حرام کردہ چیز کو منہ نہ لگاؤں گا۔ بادشاہ نے یہ سن کر کہا کہ میں تمھیں سخت سزا دوں گا۔چنانچہ بادشاہ کے حکم پر اس نوجوان کی گردن کی کھال کاٹی گئی، پھر اس کے سر اور چہرہ کی کھال اتاری گئی اور اسے شہید کر دیا گیا۔ بادشاہ نے ظالمانہ انداز سے باقی بھائیوں کو بھی اسی طرح شہید کر دیا۔
اس کے بعد سب سے چھوٹا بھائی باقی بچا۔ بادشاہ نے اس کی والدہ کو بلایا اور کہا کہ دیکھ جس طرح باقیوں کا حشر کیا ہے تیرے اس چھوٹے بیٹے کا بھی یہی حشر کروں گا، تو اسے جا کر سمجھا کہ اگر یہ لقمہ کھانے پر راضی ہو گیا تو تم دونوں کو چھوڑ دوں گا۔ پھر ماں اپنے بیٹے کو تنہائی میں لے گئی اور اس سے کہا میرے لخت جگر کیا تو جانتا ہےکہ تیرے بھائیوں میں سے ہر ایک پر میرا ایک حق ہے اور تجھ پر میرے دو حق ہیں وہ یہ کہ میں نے تیرے بھائیوں کو دو دو سال دودھ پلایا لیکن جب تم پیدا ہوئے تو نہایت کمزور تھے، تمھاری اس کمزوری نے مریے دل میں تمھاری شدید محبت پیدا کی تو اس کمزوری اور
تمھاری محبت کی وجہ سے تمھیں چار سال دودھ پلایا، تجھے اللہ عزوجل اور اس کے احسان کا واسطہ دے کر کہتی ہوں کہ تو ہرگز خنزیر کا گوشت نہ کھانا اور کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ روز قیامت تو اپنے بھائیوں سے اس حال میں ملے کہ تو ان میں سے نہ ہو۔سعادت مند بیٹے نے جب یہ بات سنی تو کہا کہ اے ماںمیں تو ڈر رہا تھا کہ شائد آپ مجھے خنزیر کا گوشت کھانے پر ابھاریں لیکن اللہ عزوجل کا احسان ہے کہ اس نے مجھے آپ جیسی عظیم ماں عطا فرمائی۔ پھر وہ عورت اپنے بیٹے کو لے کر بادشاہ کے پاس آئی اور کہا کہ یہ لو اب یہ وہی کہے گا جو میں نے اسے کہا۔ بادشاہ خوش ہوا اور اس کی طرف خنزیر کا گوشت بڑھاتے ہوئے کہا یہ لو اس میں سے کچھ کھا لو۔یہ سن کر بہادر نوجوان نے کہا اللہ کی قسم میں ہرگز اس چیز کو نہ کھاؤں گا جس کو اللہ نے حرام کیا ہے۔ پھر ظالم بادشاہ نے اس چھوٹے لڑکے کو بھی شہید کر دیا۔ پھر وہ اس بہادر عورت کی طرف ہوا اور کہا
کہ دیکھ تو یہ لقمہ کھا لے تجھے منہ مانگا انعام دوں گا ورنہ تجھے بھی تیرے بیٹوں کی طرح لقمہ اجل بنا دوں گا۔وہ بہادر عورت بولی کہ اپنے بیٹوں کے جانے کے بعد اب مجھے زندگی سے سرو کار نہیں اور تیرے کہنے پر میں اپنے رب کی نافرمانی ہرگز نہ کروں گی۔ جب ظالم بادشاہ نے یہ باتیں سنی تو طیش و غصہ کی حالت میں اس عورت کو بھی شہید کر دیا۔ اور اس طرح عظیم ماں کی روح اپنے فرزندوں سے جا ملی ۔
یہ واقعہ حضرت وہب بن منبہؒ سے مروی ہے۔جب پتھر توڑنے والے چند مزدور حضرت وہب بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ جس قدر مصیبتوں کا ہمیں سامنا ہے کیا ہم سے پہلے لوگ بھی ایسی مصیبتوں سے چار ہوئے؟ آپ نے ان کی بات سن کر ارشاد فرمایا اگر تم اپنی مصیبتوں اور اپنے سے سابقہ لوگوں کے مصائب کا موازنہ کرو تو تمھیں ان کے سامنے اپنی مصیبتیں ایسے لگیں گی جیسے آگ کے مقابلے میں دھواں۔ پھر آپؒ نے اوپر بیان کیا گیا واقعہ ان لوگوں کو سنایا۔

About admin

Check Also

وقت سے پہلے بالوں کو سفید کرنے والی وجوہات کون کون سی ہے

بال سفید ہونا بڑھتی ہوئی عمر کا حصہ ہے لیکن بعض افراد کے بال وقت …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *