Home / pakistan News / نواز شریف کی طبی بنیاد پر 40 دنوں کے لیے ضمانت منظور

نواز شریف کی طبی بنیاد پر 40 دنوں کے لیے ضمانت منظور

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے نوازشریف کو چھ ہفتے کیلئے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے سزا معطل کردی اور کے بیرون ملک جانے پر پابندی لگادی اور  50لاکھ کے مچلکے جمع کرانے کا بھی حکم دیا۔
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں3رکنی بینچ نے نواز شریف کی درخواست ضمانت پر سماعت کی، سماعت میں چیف جسٹس نے استفسار کیا آپ نےاضافی دستاویزجمع کرائی ہے؟ جس پروکیل خواجہ حارث نے جواب دیا جی یہ ڈاکٹر لارنس کا خط ہے تو چیف جسٹس نے کہا یہ تو انہوں نےکسی ڈاکٹر عدنا ن کے نام خط لکھا ہے، خواجہ حارث نے مزید بتایا ٖڈاکٹرعدنان نوازشریف کےذاتی معالج ہیں۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا میں کیسے معلوم ہوکہ یہ خط کس نےکس کو لکھا؟ یہ تو 2عام لوگوں کےدرمیان کی خط و کتابت ہے، یہ آپ نےجمع کرایاتوہم نےاسے پڑھ لیا، جس پر نواز شریف کے وکیل نے کہا میں اپنے کیس میں اس خط پرانحصا ر نہیں کر رہا ،گذشتہ سماعت پر 5 مختلف میڈیکل بورڈز کی رپورٹس پیش کی تھیں ، رپورٹس میں واضح ہے نواز شریف کو دل اورگردوں کا عارضہ ہے۔

خواجہ حارث کا مزید کہنا تھا نوازشریف کودل کی بیماری مزید بڑھ سکتی ہے، دل کا مرض پیچیدہ ہے، انجیوگرافی کرانے کی ضرورت ہے، شوگر اور ہائپرٹیشن کو مسلسل دیکھنا ضروری ہے، ان کو گردوں کی بیماری بھی اسٹیج تھری کی ہے، چوتھے درجے پر ڈائلسز درکار ہے اور پانچویں پرگردے فیل ہوجاتے ہیں۔
چیف جسٹس نے خواجہ حارث سے استفسار کیا کیا ہم ڈاکٹر لارنس کی بات من وعن تسلیم کرلیا ؟ کیا ڈاکٹر لارنس کے خط کےعلاوہ ان کے مرض کا کوئی ثبوت نہیں؟ ڈاکٹر لارنس نےگردوں کے مرض کو اسٹیج 4 کا کہا ہوتا تو کیا اسے بھی قبول کرلیں؟ طبی بنیاد پر کیس بنا رہے ہیں، ہمارے پاس صرف ایک ڈاکٹر لارنس کا خط ہے۔
نواز شریف کے وکیل نے کہا ہمارے تشکیل بورڈنےبھی گردوں کےمرض کواسٹیج تھری قراردیا، جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا 17سال سے نوازشریف کویہ بیماریاں لاحق ہیں، بیماریوں کے باوجود انھوں نے خاصامتحرک معمول زندگی گزارا، ضمانت کے لیے طبی بنیاد تب ہی بنےگی جب ان کی طبیعت زیادہ خراب ہو۔
چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا 2003 سے ان کودل کا مرض ہے ، ہمیں دیکھنا ہے ان کو جان کاخطرہ تو لاحق نہیں ؟ اگر علاج جیل میں ممکن نہ ہو تب ہی ضمانت پر رہائی دی جاسکتی ہے، کہا جاتا ہے جس کابائی پاس ہوجائے وہ 20سال جوان ہوجاتا ہے۔

چیف جسٹس نے خواجہ حارث سے مکالمے میں کہا آپ کو بلڈاپ کرناہے اب جیل میں رہنےسےان کی جان کوخطرہ ہو سکتاہے، جس پر خواجہ حارث نے کہا تمام بورڈ نےکہا نواز شریف کی انجیوگرافی درکار ہے، انجیو گرافی میں گردوں اورشوگرکرکو مد نظررکھناضروری ہے، دل سےدماغ کوخون کی سرکولیشن 43 فیصد بلاک ہے۔
نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے 8 ہفتوں کے لیے ضمانت کی استدعا کی جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا 8 ہفتے کے بعد آپ واپس آ جائیں گے، 9 اپریل کو ہائیکورٹ میں آپ کی اپیل پر بھی سماعت ہے، اگر وہاں سے فیصلہ آپ کے خلاف آ جاتا ہے تو کیا کریں گے۔وکیل خواجہ حارث نے کہا عدالت کو ضمانت دیتا ہوں ہائیکورٹ سے اتنی جلدی فیصلہ نہیں ہو سکتا، ابھی تک صرف نوٹس ہوئے ہیں جو مجھے موصول بھی نہیں ہوئے، جہاں تک علاج کا تعلق ہے میرے موکل کی زندگی دا پر ہے، علاج مکمل ہونے کے بعد خود کو عدالت کے حوالے کردیں گے۔نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ جب کلثوم نواز زیر علاج تھیں تو کہا گیا وہ بیمار نہیں اور جب وہ فوت ہوگئیں تو کہا گیا وہ پہلے ہی مر گئی تھیں۔
سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نے نواز شریف کے معالج ڈاکٹر لارنس کے خط کا حوالہ دیا جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا ہمیں یہ بتائیں کہ ان کی جانب سے لکھے گئے خط کی کیا قانونی حیثیت ہے؟۔چیف جسٹس نے کہا ڈاکٹر لارنس کا یہ خط عدالت کے نام نہیں بلکہ عدنان نامی شخص کے نام لکھا گیا ہے، اس خط کے مصدقہ ہونے کا ثبوت نہیں، یہ خط ایک پرائیویٹ شخص نے دوسرے پرائیویٹ شخص کو لکھا ہے، یہ خط شواہد کے طور پر کیسے پیش ہوسکتا ہے۔خواجہ حارث نے کہا میں اس خط پر انحصار نہیں کر رہا، نواز شریف کی صحت خراب ہونے پر ڈاکٹرز نے معائنہ کیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ رپورٹس بتاتی ہیں کہ نواز شریف کو دل کا عارضہ ہے تاہم جاننا چاہتے ہیں کہ کیا ان کی جان کو خطرہ ہے؟  بتائیں نواز شریف کی میڈیکل ہسٹری سے صورتحال کیسے مختلف ہے، صحت کیسے بگڑ رہی ہے۔وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف کو 7 میڈیکل اسٹنٹس ڈالے جا چکے ہیں، انجائنا سے دل کو نقصان پہنچ سکتا ہے، تمام میڈیکل بورڈز  نے کہا ہے کہ نواز شریف کی انجیو گرافی کی ضرورت ہے۔
ایڈیشنل پراسیکیوٹر نیب نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف کی 24 گھنٹے مانیٹرنگ کی جا رہی ہے، ان کو کوئی جان لیوا بیماری لاحق نہیں ہے، ان کی جان کو کوئی خطرہ نہیںہے۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ اگر جان کو خطرہ نہیں تو میڈیکل بورڈ انجیوگرافی کا کیوں کہہ رہے ہیں۔جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ آپ نواز شریف کو ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال منتقل کرتے رہے، کسی رپورٹ میں نہیں کہا گیا کہ انہوں نے علاج کرانے سے انکار کیا ۔چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ نیب کے سارے ملزم بیمار کیوں ہوجاتے ہیں؟ 
نیب کے ہرکیس میں ملزم کی بیماری کا معاملہ سامنے آجاتا ہے، نیب اتنے ارب روپے ریکور کرتا ہے، ایک اچھا اسپتال ہی بنالے۔انہوں نے کہا کہ لگتا ہے کہ نیب ملزمان کو ذہنی دباو زیادہ دیتا ہے، نیب کے رویے کی وجہ سے لوگ خودکشی کرنے لگ گئے ہیں، ہم اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے خواجہ حارث کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے بتانا ہے کہ نواز شریف کی زندگی کو کیا خطرات ہیں کہ ان کی ضمانت منظور کی جائے، کیا پاکستان کے کسی اسپتال کے ڈاکٹرز، سہولیات اور عملہ ایسا ہے کہ ان کا علاج ہوسکے۔خواجہ حارث نے کہا نواز شریف کے گردے کی بیماری تیسرے درجے کی ہے، ان کا بلڈ پریشر اور شوگر دل کی بیماری کے لیے مزید خطرناک ہے۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا آپ نواز شریف کے علاج کے لیے ضمانت چاہتے ہیں، ہم پاکستان میں کسی بھی اسپتال میں ان کے علاج کا حکم جاری کردیتے ہیں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا آپ نے میرٹ کی بنیاد پر دائر پٹیشن واپس لے لی تھی جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف کی صحت کا معاملہ بعد میں سامنے آیا اس لیے درخواست واپس لی گئی، سابق وزیراعظم کی صحت کا جائزہ لینے کیلئے 5 میڈیکل بورڈ بنے اور پانچوں بورڈز نے  اسپتال داخل کرانے کی سفارش کی۔
خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 30جنوری کو پی آئی سی بورڈ نے بڑے میڈیکل بورڈ بنانے کی تجویز دی اور ایک سے زائد بیماریوں کے علاج کی سہولت دینے والے اسپتال میں داخلے کا کہا۔فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ججز نے باہمی مشاورت کی اور چیف جسٹس نے فیصلہ تحریر کیا۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف کی درخواستِ ضمانت 6 ہفتوں کے لیے منظور کرلی۔

About admin

Check Also

آصف علی زرداری کی گرفتار,اور کل یوم سیاہ منانےکا اعلان

پیپلز پارٹی سندھ نے آصف زرداری کی گرفتاری پر کل یوم سیاہ منانے کا اعلان …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *