Home / Coulmns / بھارتی پروپیگنڈے کا منہ توڑ جواب دیا جائےگا۔اسد الله غالب

بھارتی پروپیگنڈے کا منہ توڑ جواب دیا جائےگا۔اسد الله غالب

بھارتی پروپیگنڈے کا منہ توڑ جواب دیا جائےگا۔اسد  الله غالب
بھارت میں کوئی پتہ بھی ہل جائے تو وہ پاکستان کے خلاف الزام بازی میں زمیں آسمان ایک کر دیتا ہے۔ وہاں پارلیمنٹ پر حملہ ہوا۔ جیش محمد پر الزام لگایا گیا۔ ممبئی حملہ ہوا تو جماعت الدعوہ پر الزام لگایا گیا۔ پٹھان کوٹ پر حملہ ہوا تو ایک بار پھر جیش محمد کو مورد الزام ٹھہرایا گیا۔ اوڑی حملہ ہوا تو بس پاکستان کی آئی ایس آئی اور مبینہ دراندازوں کے خلاف دہائی دی جانے لگی اور اب پلوامہ میں حملہ ہوا تو پھر جیش محمد ہی کو ٹارگٹ کیا گیا۔بھارتی پروپیگنڈے کی کامیابی یہ ہے کہ ساری دنیا پاکستان کو دہشت گردی کی نرسری سمجھنے لگ گئی ہے۔امیر العظیم نے بڑی حیرت سے کہا کہ ہم بھارتی پروپیگنڈے کے سامنے گونگے کیوں بنے ہوئے ہیں، ہمارے ہاں چودہ برسوں میں ہزرا ہا دہشت گردی کے سانحے رونما ہوئے۔کوئی ستر ہزار افراد شہید ہو گئے جن میں چھ ہزار تو فوج کے افسراور جوان بھی شامل ہیں۔ہماری معیشت کو اربوں ڈالر کا دھچکا لگا مگر ہم گونگے کیوں بنے بیٹھے ہیں اور ہماری زبان پر ا س دہشت گردی کے مجرم بھارت کا نام کیوں نہیں آتا جبکہ ہمارے پاس اس کا ایک زندہ ثبوت بھی موجود ہے اور وہ بھارتی فوج کا حاضر سروس افسراور کرنل کے عہدے پر براجمان افسرکل بھوشن یادیو ہے ۔ وہ تین برس سے ہماری قید میں پڑا ہے اور بہت کچھ اگل چکا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر خود بھارتی وزیر اعظم مودی نے اعتراف کیا ہے کہ اکہتر میں بھارت نے دہشت گردی کاا رتکاب کر کے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش میں تبدیل کیا تھا۔ اسی پر بس نہیں ، مودی مزید دھمکی دے چکا ہے کہ وہ بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ کرے گا جو اس نے اکہتر میںمشرقی پاکستان میں کیا۔ یہ سب کچھ ریاستی دہشت گردی کا کھلم کھلا ثبوت ہے۔امیر العظیم نے کہا کہ پاکستان نے ان واقعات سے بھی اغماض برتا ہے جو بھارت میں رونما ہوئے اور جن میں بے گناہ لوگوں کی جانیں لی گئیں۔ ان واقعات میں ایک سمجھوتہ ایکسپریس میں آتش زنی ہے جس کا ذمے دار بھارتی فوج کا حاضر سروس افسر کرنل پروہت ہے اور جسے گرفتار بھی کیا گیا تھا۔ اسی طرح مالیگائوں میں خون کی ہولی کھیلی گئی اوراس میں ممبئی کا ایک یہودی مافیا ملوث تھا۔ ان دونوں سانحوں کی تفتیش ممبئی کے انسداد دہشت گردی اسکواڈ کے انچارج مسٹر کر کرے کر رہے تھے جنہیں ممبئی حملوں کے ابتدائی لمحوں میں سیدھی گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا اوریوں ا س تفتیش کو دفن کر دیا گا جو مالی گائوں اور سمجھوتہ ایکسپریس کے سلسلے میں کی جارہی تھی۔

یہاں ہر مقرر کے جذبات کا عالم دیدنی تھا، ہر کوئی بھارتی سرکارا ور بھارت کی اکثریتی آبادی کے خلاف شکوے شکائیتوں کا انبار لئے بیٹھا تھا۔ امیر العظیم کہتے ہیں کہ انہوں نے وہاں جان بوجھ کر محتاط تقریر کی مگر جب وہ ا سٹیج سے نیچے اتر رہے تھے تو نوجوانوںنے کہا کہ آپ نے تو ہمیں مایوس ہی کر دیا ۔ ہم نے تو آپ سے بہت سی امیدیں وابستہ کرر کھی تھیں۔ امیر العظیم کہتے ہیں کہ ہم مسلم نوجوانوں کے ان جذبوں کو پڑھنے سے کیوں قاصر ہیں اور ہمارے ذہن میں کیوں یہ تجویز نہیں آتی کہ بھارت میں ایک ایم کیو ایم طرز کی جماعت کھڑی کی جائے جو اپنے حقوق کے حصول کے لئے سرگرم جد وجہد کرے اور ہم ا س کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمائت کریں۔ اقوام متحدہ کا چارٹر اگر ہمارے ہاں اقلیتوں کے حقوق پر امریکہ اور مغرب کو مداخلت کی اجازت دیتا ہے تو اسی چارٹر کی روشنی میں ہم بھارت کے نوجوان مسلمانوں کی جائز اورا ٓئینی جدوجہد کی حمائت کر سکتے ہیں۔
امیرا لعظیم نے کہا کہ بھارت سراسر ریاستی دہشت گردی کا مرتکب ہے مگر وائے افسوس! ہم نے کبھی بھارت کے خلاف وہ پروپیگنڈہ نہیں کیا جس طرح اس نے پاکستان کے خلاف زہر پھیلایا ہے۔ مگر اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی خاموشی کو توڑیں ، مصلحت کی چادر چاک کریں اور آنکھوں پر بندھی ہوئی پٹی اتار دیں اور دنیا کے سامنے بھارت کا وہ خون خوار چہرہ پیش کریں جس سے ہر ایک کو یقین ہو جائے کہ یہ ملک نہ سیکولر ہے،نہ جمہوریت پسند ہے بلکہ ایک خونی بلا فریکنسٹائن کی حیثیت رکھتا ہے۔
پاکستان کے کرنے کا ایک کام یہ ہے کہ بھارت اور کشمیر میں جو بھی آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں اور ان کی راہ میں جو بھی قربانیاں پیش کی جا رہی ہیں اور انہیں دبانے کے لئے بھارتی حکومت ظلم اور تشدد کے جو پہاڑ توڑ رہا ہے
امیر العظیم نے کہا کہ ہمارے ہاتھ بھارت کا ایک پائلٹ لگا مگر ہم نے اسے چھوڑنے میں جلدی دکھائی۔ پتہ نہیں کیا جلدی پڑی تھی۔ اس نے بھی کل بھوشن کی طرح کا جرم کیا تھا۔ وہ بھی پاکستان میں دہشت گردی کے لیئے گھسا تھا۔کل بھوشن نے پتہ نہیں کتنے پاکستانیوں کی جانیں لیں اور ابھی نندن کا بھی بس چلتا تو وہ لاتعداد بے گناہ پاکستانیوں کو ایک ایک ہزار پونڈ کے بموں سے شہید کر سکتا تھا۔ یا ہمارے طیاروں کو نقصان پہنچا سکتا تھا یا ہماری فوجی تنصیبات کو تباہ کر سکتا تھا ،پتہ نہیں کیوں ہم کراچی میں بحری اڈے اور کامرہ پر دو حملوں کی ذمے داری بھارت پر ڈالنے سے کتراتے ہیں۔ یہ حملے سراسر بھارت کے فائدے میں جاتے تھے ، ان سے ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کا کیا تعلق بنتا ہے۔ امیر العظیم نے کہا کہ بھارت ہمارے معاملے میں منہ پھٹ واقع ہو اہے اور ہم بھارت کے خلاف اہنے ہونٹ سیئے بیٹھے ہیں۔ ہم کیوں چپ شاہ بن کر رہ گئے ہیں ۔ اس انداز سے تو ہم بھارتی پروپیگنڈے کا توڑ نہیں کر سکتے۔ فوری حل یہ ہے کہ ہم بھارت میں ایک ایم کیو ایم کی طرز کی جماعت کھڑی کریں جو اپنے حقوق کی بات کھل کر کرے ۔ پھر دیکھیں کہ بھارت ہمارے خلاف زبان طعن بند کرتا ہے یا نہیں۔ جاری ہے

About admin

Check Also

Be Sharam Tabdeli Saleem Safi

                              …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *