Home / Coulmns / شہباز شریف اوز نواز شریف سے ڈیل

شہباز شریف اوز نواز شریف سے ڈیل

مسلم لیگ ن کے قائد محمد نواز شریف کو سروسز ہسپتال سے کوٹ لکھپت جیل میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ قبل ازیں حکومتِ پنجاب کی جانب سے کہا گیا تھا کہ میاں نواز شریف کو سروسز ہسپتال میں ہی زیر علاج رکھا جائیگا لیکن اگلے روز ہی میاں نواز شریف کو کوٹ لکھپت جیل میں منتقل کر دیا گیا۔ حکومت پنجاب نے میاں نواز شریف کو پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں بھی منتقل کرنے کا عندیہ دیا تھا لیکن میاں نواز شریف نے آئے روز مختلف ہسپتالوں میں بھجوائے جانے کی کوشش کو سختی سے مسترد کر دیا۔ انکے دوبارہ کوٹ لکھپت جیل جانے کے بعد سیاسی حلقوں میں ’’ڈیل، ڈھیل یا این آر او ‘‘کے تحت انکے بیرونِ ملک جانے کی افواہیں دم توڑ گئی ہیں۔ میاں نواز شریف کی سروسز ہسپتال سے دوبارہ کوٹ لکھپت جیل منتقلی کے موقع پر انکی والدہ بیگم شمیم اختر نے ان کا بوسہ لیا‘نوازشر یف بھی بڑی دیر تک والدہ کے ہاتھ چومتے رہے ۔ مر یم نواز شر یف نے کہا ہے کہ ’’میں نے چپ رہ کر سب کچھ سہا اور مانگا تو صرف اللہ سے، کسی چیز پر سیاست نہیں کی، مگر اب اگر میرے والد کی صحت سے کھلواڑ کیا گیا ،اس کو سیاست کی نذر کیا گیا یا ان کو خدا نخواستہ کوئی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری حکومت پر ہو گی‘ایک رات جیل میں میاں صاحب کو سینے میں تکلیف ہوئی، وہ آوازیں دیتے رہے مگر کوئی انکی مدد کونہ آیا‘ اس بے حسی اور سیاسی انتقام کا جواب حکمرانوں کو دینا پڑیگا‘‘ ۔میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے پیش نظر پنجاب حکومت نے میاں نوازشریف کو سروسز ہسپتال سے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کرنے کا فیصلہ کیا لیکن انہوں نے پی آئی سی جانے سے انکار کردیا اور اس بات پر زور دیا کہ انہیں بار بار مختلف ہسپتالوں میں بھجوائے جانے کی بجائے واپس کوٹ لکھپت جیل بھجوا دیاجائے۔
انکی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دیا گیا ہے ، انھیں بھی احتساب عدالت میں 18 فروری 2019ء کو خود پیش ہونے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے تاکہ ان پر فرد جرم عائد کی جا سکے۔ قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نے وزیر اعظم عمران خان کو میاں شہباز شریف کو چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی بنانے پر رضا مند کرا لیا تھا لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے۔ حکومتی حلقوں کیلئے انکی چیئرمینی ناقابل برداشت ہے اب تو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی میاں شہباز شریف کی پارلیمنٹ ہائوس میں انکے چیمبر میں بیٹھنے پر ’’ تشویش‘‘ کا اظہار کیا گیا۔ راقم السطور کو وفاقی حکومت کے ایک ذمہ دار عہدیدار نے بتایا ہے وزیر اعظم عمران خان نے میاں شہباز شریف کو پبلک اکائونٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ سے ہٹانے کیلئے پارٹی رہنمائوں کو ’’گرین سگنل‘‘ دے دیا ہے۔
احتساب عدالت میں 18فروری2019ء کو میاں شہباز شریف پر ’’فرد جرم ‘‘ عائد کئے جانے کے بعد ان کیخلاف پبلک اکائونٹس کمیٹی میں ’’ تحریک عدم اعتماد‘‘ پیش کرنے کی منصو بہ بندی کی جا رہی ہے جہاں حکومتی ارکان کی تعداد اپوزیشن کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے قومی اسمبلی کے سپیکر وفاقی حکومت کو یہ کھیل کھیلنے کی اجازت دیتے ہیں کہ نہیں کیونکہ میاں شہباز شریف کو پبلک اکائونٹس کمیٹی کی چیئرمینی سے ہٹانے کے بعد سپیکر کیلئے ایوان کی کارروائی پر امن طور پر چلانا ممکن نہیں رہے گا۔ میاں نواز شریف اور شہباز شریف کو دی جانیوالی طبی سہولیات کی فراہمی ان کا بنیادی حق ہے، لیکن ’’جبر‘‘ کے ماحول میں انہیں دی گئی طبی سہولیات کو بھی سرکار کی ’’مہربانی‘‘ قرار دینے کی کوشش کی جا رہی ہے تاہم میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز جنہوں نے ’’ چپ کا روزہ‘‘ رکھا ہوا ہے، سیاسی معاملات پر کم کم بولتی ہیں، کو بھی مجبوراً بات کرنا پڑگئی ہے ۔ مریم نواز نے کہا ہے کہ ’’ نواز شریف کی بیماری سنجیدہ مسئلہ ہے، رحم کی بھیک نہیں چاہیے، اس شخص کی صحت سے کھلواڑ کیا جا رہا ہے جو ملک کا تین مرتبہ وزیراعظم رہ چکا ہے، تین میڈیکل بورڈ حکومت نے خود بنائے تھے جس میں انہوں نے کہا کہ انکی صحت کا مسئلہ ہے، سروسز ہسپتال میں کارڈیک وارڈ ہی نہیں۔ چار دن سروسز اسپتال میں کیوں رکھا گیا، میڈیکل بورڈ پانچ روز کیا کرتا رہا ہے، بورڈ بنا بناکر صحت کے معاملے پرتضحیک کی گئی۔ حکومت نوازشریف کو جیل سے لے کر خود آئی انہیں ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال لے جایا جارہا ہے، ہمیں رحم کی بھیک نہیں چاہیے۔ چاروں بورڈز نے کہا ہے کہ نواز شریف کو دل کے ہسپتال جانا چاہیے، حکومتی کارندوں نے انکی صحت کے معاملے پر ابہام پیدا کیاہے ۔
نواز شریف کو عدالت کی جانب سے ملنے والی طبی سہولیات کو حکومت کی جانب سے ’’احسان ‘‘ جتلانے کی کوشش کی جا رہی ہے جس پر مسلم لیگی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ انہیں عدلیہ کی جانب سے جو کچھ بھی مل رہا ہے اسے حکومت کی ’’نوازشات‘‘ قراردیا جا رہا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان سے لے کر تحریک انصاف کے ادنیٰ کارکن تک بھی ’’این آر او‘‘ نہ دینے کا ذکر کچھ اس تواتر سے کر رہے ہیں جیسے نواز شریف اور شہباز شریف اس سب کا ان سے تقاضا کر رہے ہیں۔ میاں نواز شریف اور نواز شریف بارہا یہ بات کہہ چکے ہیں کہ جو لوگ’’ این آر او‘‘ نہ دینے کی بات کر رہے ہیں وہ بتائیں کہ ان سے کس نے این آر او مانگا ہے؟ دوسری طرف مسلم لیگ ن کے رہنمائوں کی جانب سے بھی خم ٹھونک کر حکومت کو للکارا جا رہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کے پاس این آر او دینے کا کوئی اختیار ہی نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ این آر او دینے کا اختیار ’’کسی اور‘‘ کے پاس ہے۔ میاں نواز شریف جو پچھلے تقریباً ڈیڑھ سال کے دوران دو سری بار جیل کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں، جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ جنرل پرویز مشرف اپنی تمام تر کوشش کے باوجود ان کی عمر قید کو سزائے موت میں تبدیل نہ کرا سکے اور انہیں سعودی عرب جلاوطن کرنے میں ہی عافیت سمجھی۔ نواز شریف کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ انہیں جنرل پرویز مشرف کے دورمیں بھی این آر او کے تحت بیرون ملک بھیجا گیا تھااور شاید اب بھی ایسا ہی کوئی ڈرامہ رچایا جا رہا ہے لیکن جہاں تک راقم السطور کا خیال ہے میاں نواز شریف ایک’’ سخت جان‘‘ سیاست دان ہیں، میدانِ سیاست میں ان کے ’’بے لچک ‘‘رویے کی وجہ سے ہی تین بار انہیں حکومت سے ہاتھ دھونا پڑے جبکہ ہر بار انہیں عوام نے بھاری مینڈیٹ دے کر پارلیمنٹ میں بھیجا لیکن ان کو غیرجمہوری طریقے اقتدار سے نکال دیا جاتا رہا۔ میاں نواز شریف کی سیاسی کتاب میں ’’سمجھوتا‘‘ نام کا کوئی لفظ نہیں۔وہ جو فیصلہ کر لیتے ہیں اسے منطقی انجام تک پہنچا کر ہی دم لیتے ہیں۔ انہوں نے کبھی اپنے اصولوں پر سیاست نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آج کوٹ لکھپت جیل کی کوٹھری میں قید کاٹ رہے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء و سابق وفاقی وزیر دفاعی پیدوار رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی ہسپتال سے جیل واپسی اس بات کا ثبوت کا ہے کہ مسلم لیگ ن کی قیادت کسی بھی ’’ ڈیل یا ڈھیل‘‘ پر یقین نہیں رکھتی۔ نواز شریف کو بیماری سے زیادہ وفاقی وزرا کے غیر سنجیدہ اور طنزیہ بیانات سے دل آزاری ہوئی ہے کسی کو ملزم یا مجرم قرار دینے کا اختیار حکومتی وزراء کو نہیں ۔ میاں شہباز شریف آئینی طور پر پی اے سی کے چیئرمین ہیں یہ کوئی حکومت سے خیرات یا ڈیل کا حصہ نہیں ۔وفاقی کابینہ کی طرف سے شہباز شریف سے پی اے سی کی چیئرمین شپ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ غیر آئینی اور غیر جمہوری ہے۔ جب سے
عبدالعلیم خان کی گرفتاری پر وزیراعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت اسلام آباد اور لاہور میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اپوزیشن کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ عبدالعلیم خان کی گرفتاری ایک ’’بیلنسنگ ایکٹ‘‘ ہے لیکن سیاسی حلقوں میں یہ رائے بھی پائی جاتی ہے کہ عبدالعلیم خان کی گرفتاری کے بعد مزید حکومتی افراد کی گرفتاری ہونیوالی ہیں۔ بہرحال جمعرات کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے پریس بریفنگ میں اپنا سارا زور میاں شہباز شریف کو استعفیٰ دینے پر لگایا ہے ۔ اگرچہ انہوں نے یہ کہا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں عبدالعلیم خان کی گرفتاری کا معاملہ زیر غور نہیں آیا،  صورتحال واضح ہو جائیگی 

About admin

Check Also

Be Sharam Tabdeli Saleem Safi

                              …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *