Home / Coulmns / خطے میں دہشت گردی.متحرک ہوگیا

خطے میں دہشت گردی.متحرک ہوگیا

پاکستان میں نئی نسل اکثردو سوال کرتی ہے کہ بھارت کی پاکستان کے ساتھ دشمنی کیا ہے اور دوسرے جب بھی پاکستان میں کوئی اہم موقع آتا ہے تو پاکستان میں کوئی دھماکہ یا خود کش حملہ ہو جاتا ہے یا پھر بھارت میں ہو جاتا ہے، جس کے بعد بھارت الزامات کی توپوں کا رخ پاکستان کی طرف موڑ کر دنیا بھر میں پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر دیتا ہے۔دانشوران سوالوں کا پہلے ایک ہی جواب دیتے تھے کہ مقبوضہ کشمیر ایک ایسا حل طلب مسئلہ ہے کہ جب تک بھارت کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق نہیں دیتا ان کے آزادی کے حق کو تسلیم نہیں کرتا تو پاک بھارت تعلقات کشیدہ ہی رہیں گے۔ مگر اب ایک اور بھی جواب ہے ، وہ یہ کہ سی پیک بھارت کی آنکھ میں کھٹک رہا ہے وہ اسے پاکستان کے ایشین ٹائیگر بننے کی نظر سے دیکھ رہا ہے اور کسی بھی طور پر اس منصوبے کے پایہ تکمیل تک پہنچنے سے پہلے اس میں رکاوٹیں ڈالنا چاہتا ہے۔سابقہ حکومتوں میں ’’را‘‘ کی ’’کارکردگی‘‘ انتہائی متاثر کن رہی، کیوں کہ کمزور سیاسی حکومتوں کی وجہ سے یہاں اُسے کھل کھیلنے کا موقع ملا، پیپلزپارٹی کے دور میں تو شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا تھا کہ جب کوئی دھماکہ یا خودکش حملہ نہ ہوا ہو۔ اُس کے بعد ن لیگ کے سابقہ دور حکومت میں تو ایسا بھی دیکھنے اور سننے کو ملا کہ مبینہ طور پر حکمرانوں کی اپنی شوگر ملوں سے ’’را‘‘ کے جاسوس کام کرتے پائے گئے۔ یہ تو بھلا ہو پاک فوج کا جس نے ضرب عضب جیسے آپریشن کے ذریعے ’’را‘‘ اور افغان خفیہ ایجنسی NDSاور دیگر ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کو پیچھے دھکیل دیا۔ اب جبکہ سعودی ولی عہد کی آمد آمد ہے ، تو گزشتہ روز ایران فورسز پر حملہ کیا گیا، پھر بھارت میں فوجی قافلے پر اور دو روز قبل افغانستان میں ایسی ہی کارروائی دیکھنے میں آئی، جس کا براہ راست الزام پاکستان پر لگا۔
کیا اور روزگار کے مواقع میں بھی اضافہ ہو گا۔سعودی عرب سی پیک اور چین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تین ائیر لائنز شروع کرنے کا بھی منصوبہ بنا چکا ہے جس سے اس کی رسائی چین اور وسطی ایشیائی ریاستوں تک ہو جائے گی، سعودی ولی عہد کے دورے کے دوران تیل، زراعت، سیاحت، میڈیا سمیت کئی شعبوں میں بارہ یادداشتوں پر دستخط متوقع ہیں۔ گوادر کو عمان سے ملانے کے لیے زیر سمندر ریلوے ٹنل یا پل بنانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
روس کی جانب سے نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن بچھانے کے لیے دس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا معاہدہ کرلیا گیا ہے۔ روس کی جانب سے ٹیلی کام انڈسٹری اور بینکنگ سیکٹر میں بھی ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ روسی کمپنی گیز پروم ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کی توسیع میں دلچسپی رکھتی ہے۔افغانستان میں قیام امن اور ایران کے جوہری پروگرام پر پاکستان اور روس کے درمیان خارجہ سطح پر بڑی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ چین، پاکستان، روس اور سعودی عرب خطہ کی معاشی ترقی میں ایک پائیدار کردار ادا کرنے جا رہے ہیں۔ اس ضمن میں انسداد دہشت گردی کے حوالے سے اسلامی اتحاد کے قیام اور اسی چھتری کے نیچے خفیہ معلومات کے تبادلے سے نہ صرف خطہ میں استحکام آئے گا بلکہ پائیدار سرمایہ کاری کے لیے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو تقویت بھی ملے گی۔ان حالات میں بھارت کے سینے پر مونگ دلی جا رہی ہے، پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری بھارت کی برداشت سے باہر ہو چکی ہے ، وہ کسی بھی صورت پاکستان میں امن، خوشحالی، استحکام نہیں دیکھنا چاہتا۔ لہذا کوئی بھی جب اہم موقع آتا ہے تو بھارت اپنے ایجنٹوں کے ذریعے کوئی ایسی واردات ڈلواتا ہے کہ جس کا ملبہ پاکستان پر گرے۔ بھارت خطے میں پاکستان مخالف سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے اور ہر طرح سے پاکستان پر دبائو بڑھانا چاہتا ہے کہ کسی طرح پاکستان چین اقتصادی معاہدے میں کوئی رکاوٹ پیدا ہو جائے اس لئے بھارت کی طرف سے تواتر کے ساتھ ایسی کارروائیاں کی جارہی ہیں جو خطے میں کشیدگی کا باعث ہیں، لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بائونڈری پر فائرنگ اور سیز فائر کی خلاف ورزی تو بھارت کی طرف سے ایک معمول بن چکا ہے ہمیشہ سے ہی بھارتی فوج کی جانب سے فائرنگ میں پہل کی جاتی ہے معصوم بچوں کو شہید کیا جاتا ہے بلا شبہ بھارتی اشتعال انگیزی خطے کے لئے خطرناک ہے دنیا کو سوچنا چاہیے کہ بھارتی طرز عمل خطے کے لئے درست نہیں بھارت ایک طرف تو کشمیریوں پر ظلم کر رہا اور دوسری طرف عالمی برادری میں مگر مچھ کے آنسو بہا رہا ہے کہ کہ کشمیر میں اس کی فوجوں پر بڑا ظلم ہو رہا ہے دنیا کے کئی ممالک نے مقبوضہ کشمیر میں مظالم پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں پلوامہ کے مقام پر ہونے والا حملہ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے، کہ جب سعودی عرب کے ولی عہد پاکستان آ رہے ہیں اور یہاں وہ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے کرنا چاہتے ہیں تو بھارت کی نیند حرام ہو چکی ہے ،چنانچہ ایسے میں اس نے پلوامہ میں ہونے والی کارروائی کو جواز بنا کر پاکستان کو بد نام کرنا شروع کر دیا۔ پلوامہ میں حملے کو ابھی24 گھنٹے بھی نہیں گزرے اور پاکستانی ہائی کمشنر کو بھارتی دفتر خارجہ طلب کر کے الزام پاکستان پر دھر دیاہے اور اپنا سفیر بھی واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے سب کچھ وہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کر رہا ہے۔ جبکہ پاکستان کی سیاسی قیادت اس حوالے سے متحد نظر آرہی ہے۔ جس نے بھارت کے بیانات کو یکسر مسترد کر دیا ہے ۔
سب سے پہلے سکم کی آزادی سلب کی۔ ’را‘ تبت اور سری لنکا میں تین عشروں تک پراکسی وار لڑتی رہی۔ مالدیپ کو آنکھیں دکھا کر سرنگوں کر لیا اور نیپال کو تمام علاقوں سے کاٹ دیا۔ بھارت اپنی بالادستی کی راہ میں پاکستان کو سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے اور اسے یہ بھی شدید قلق ہے کہ مسلمان آئینی اور سیاسی جدوجہد کے ذریعے ہندوستان کا ایک قطعہ کاٹ لینے اور اپنا جداگانہ وطن حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ یہ زخم اِس قدر گہرا ہے کہ وہ مندمل ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا بلکہ عداوت کے منفی جذبات کے باعث رستا رہتا ہے۔ اِسی مائنڈ سیٹ سے اس نے پاکستان سے چار جنگیں لڑی ہیں اور اس کا شیرازہ بکھیر دینے کے لیے ’را‘ ہر آن متحرک رہتی ہے۔
بھارت کے مقابلے میں پاکستان کا طرزِ عمل نہایت معقول اور مسلمہ اصولوں کے مطابق رہا۔ بھارت نے ممبئی پر حملے کے مقدمے میں اجمل قصاب کو موت کی سزا سنائی اور اسے پھانسی دے ڈالی۔ اس کا یہی بہیمانہ طرزِ عمل کشمیری لیڈر افضل گرو کے ساتھ رہا جسے آناً فاناً سولی پر چڑھا دیا گیا۔ اس کے مقابلے میں بھارت کے خوفناک دہشت گرد کو تمام سہولتیں فراہم کی گئیں اور بین الاقوامی قوانین کا پورا پورا خیال رکھا گیا۔ اس کی والدہ اور بیوی سے ملاقات بھی کرائی گئی۔ پاکستان کا عالمی عدالتِ انصاف میں بنیادی موقف یہ تھا کہ اسے مقدمہ سننے کا اختیار حاصل نہیں کیونکہ جنیوا کنونشن کا اطلاق جنگی قیدیوں پر ہوتا ہے جبکہ کلبھوشن ایک جاسوس ہے اور وہ پاکستان میں تخریبی سرگرمیوں میں خطرناک حد تک ملوث رہا ہے۔بہرکیف دہشت گردی کسی بھی ملک میں ہو اُس کی مذمت کی جانی چاہیے، پاکستان نے پلوامہ حملے کے حوالے سے شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ مرنے والوں کے غم میں پاکستان برابر کا شریک ہے۔ مگر اس حوالے سے کہ الزام پاکستان پر ہی لگا دیا جائے یہ زیادتی ہوگا۔ بات سمجھنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ ’’را‘‘ پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے، اس کے لیے چاہے اُسے اپنے ملک ہی میں عوام کو کیوں نہ مارنا پڑے 

About admin

Check Also

Be Sharam Tabdeli Saleem Safi

                              …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *