Home / Buffalo & Cows / جانوروں کے حوانہ کو انگیاری یا ساڑو ہیے کیا کیوں ہوتا ہیے اس کے اسباب کیا ہیں۔

جانوروں کے حوانہ کو انگیاری یا ساڑو ہیے کیا کیوں ہوتا ہیے اس کے اسباب کیا ہیں۔



انگیاری یا ساڑو۔۔۔
دوستو انگیاری یا ساڑو ہیے کیا کیوں ہوتا ہیے اس کے اسباب کیا ہیں۔
انگیاری ساڑو کو مینٹس یا حوانہ کی سوزش بھی کہا جاتا ہیے۔ اس مرض میں حوانہ سوج جاتا ہیے تھن سرخ ہو جاتے ہیں۔تھنوں میں سے دودھ کی بجا
ۓ پیپ گندا سا پتلا پیلا پانی انے لگتا ہیے مرض کی شدت میں مین تھنوں سے خون بھی نکلنے لگتا ہیں جانور شدید درد محسوس کرتا ہیے۔چارہ چھوڑ دیتا ہیے۔حوانہ کی جالی اندر سے بند ہو جاتی ہیۓ بروقت علاج نا کرنے کی صورت میں۔ایک یا دو یا چاروں تھن بیکار ہو سکتے ہین۔ان کا ددھ بند ہو جاتا ہیے۔تھن چھوٹا ہو جاتا ہیے جس سے اچھی نسل کا جانور بھی اپنی قیمت کم کر دیتا ہیے اور فارمر کو اونے پونے بیچنا پڑتا ہیے۔پچھلے دنوں مین بھی میں نے یہ لکھا تھا کہ انگیاری ایک ایسا موزی متعدی مرض ہیے جس پے دنیا کا ترقی یافتہ ملک امریکہ بھی پوری طرح قابو نیں پا سکا۔ہم تو پھر بھی ترقی پزیر ملکوں مین بھی بمشکل شمار کیے جاتے ہین۔۔
انگیاری کے اسباب کیا ہین۔۔
انگیاری یا ساڑو کا کو
ٸایک سبب نہیں ہیے۔لیکن اس کا ایک بنیادی سبب ماحول کا صاف نا ہونا فارم میں گندگی کا ہونا۔جس سے جراثیم پیدا ہوتے ہین۔جانور کا دودھ دوھنے کے بعد جب جانور فورً گندگی والی جگہ پے بیٹھ جانا چونکہ ددھ دوہنے کے بعد جانور کے تھنوں کے سوراخ کچھ دیر کے لیے کھلے رہیتے ہین تو جونہی جانور گوبر پے یا گندگی پے بیٹھتا ہیے تو گوبر تھنوں کے سوراخ سے حوانہ کے اندر چلا جاتا ہیے۔جس سے حوانہ کے اندر جراثیم پیدا ہو جاتے ہین۔جس سے انفیکشن ہو کے انگیاری کا سبب بنتا ہیے۔۔بعض اوقات زیادہ دودھیل جانور کا دودھ ٹایم پے نا دوہنے سے بھی انگیاری ہو سکتی ہیے۔اس لیے ماہیرین کہتے ہیں کہ زیادہ دودھ دینے الے جانور مثلاً جن کا دودھ 25 30 کلو کے قریب ہو اس کا ددھ 24 گھنٹوں مین 3 دفعہ نکالا کریں۔اس کے پھیچھے بھی وجہ اور مصلحت انگیاری سے بچاو کرنا ہی ہیے۔۔جانور کی نٸڈیلوری کے بعد پہلا دودھ لیٹ نکالنے کی جہ سے بھی جانور کو انگیاری ہو سکتی ہیے۔۔ناقص خوراک ٹاکسن والی خوراک زیادہ خشک خوراک سے بھی انگیاری ہو سکتی ہیے کھل بنولہ بھی انگیاری پیدا کرنے کا ایک بڑا سبب ہیے۔ خاص طور پے گرمیوں مین بہت خشکی پیدا کرتی ہیے کھل بنولہ مین ٹاکسن کی وجہ سے بھی انگیاری ہو جاتی ہیے اور ہوٸ ہیے کٸ دفعہ انگیاری کے پیچھے جب اسباب تلاش کیے گۓتو کھل بنولہ کا کثرت سے استعمال بھی انگیاری کا سبب نکلا۔شدید گرمی سے بھی حوانہ میں دودھ کی زیادتی کی وجہ سے اکثر انگیاری ہو جاتی ہیے۔انگیاری کے جراثیم چھوت کے ذریعے ایک جانور سے دوسرے جانور کو بھی منتقل ہو سکتے ہیں۔یہ جراثیم دودھ دوھنے والے انسان کے ہاتھوں سے بھی ایک جانور سے دوسرے جانور مین منتقل ہوجاتے ہین۔۔
حفاظتی تدابییر اور علاج۔۔
انگیاری سے بچاو کے لیے۔جانور کو صاف ستھری جگہ پے باندھیں۔نیچے سے گوبر ہٹاتے رہینں اس کی جگہ ریت ڈالیں۔ہر ہفتے فارم میں جراثیم کش دوا
ٸ کا سپرے کرین جو گورنمنٹ کے ہسپتال سے ملتی ہیے۔۔جانور کا ددھ دوھنے کے بعد کم از کم 30 منٹ بیٹھنے نا دیں تاکہ اس کے تھنوں کے سواراخ کھلے ہونے کی وجہ سے گوبر یا گندگی اندر نا چلی جا۔یا دودھ دوھنے کے بعد۔۔صاف ستھری جگہ پے باندھین۔۔
کھل کی بجا
ۓ اچھی کمپنی کا ونڈہ استعمال کرین تیل سرسوں کا اسعمال زیادہ سےزیادہ کرین یہ ایک اچھا لبریکیٹر ہوتا ہیے اور حوانیہ کو صاف اور ملاٸم رکھتا ہیے
۔تھنو کو ہر دفعہ دودھ دوہتے ہوں صاف پانی سے اچھی طرح دھوین اور دودھ دوہنے کے بعد تھنوں پے تھوڑی سی پڑرولیم جیلی مرہم لگا دیں ۔زیادہ دودھ والی گا
ۓ یا بھینس کا 3 ٹایم دودھ نکالین۔حوانہ کو بڑا یا خوبصورت دکھانے کے لیے کبھی بھی جانور کے سونے کے بعد اس کا پہلا دودھ نکالنے مین دیر نا کریں۔ جلدی سے جلدی نکال لین۔۔اپنے جانور کے حوانہ کی نماٸش کہیں اپ کے لیے مہنگی نا ثابت ہو جاۓ۔۔ددھ دوھنے کے بعد عبدلمنان جٹ صاحب والا سپرے کریں تھنوں پے۔پایوڈین گلیسرین والا فارمولہ۔۔جانور کی ڈیلوری سے 10 15دن پہلے ہیوٸخوراک منرلز بند کر دیں۔
علاج۔۔۔
انگیاری ہونے کے بعد انتہا
ٸتیزی اور بروقت بہترین علاج سے ہی اس مرض کا مکلمل خاتمہ کیا جا سکتا ہیے جو کہ میری اپنی گاۓ کو 2 دفعہ ہونے کے بعد مین خود کر چکا ہوں اور دونوں دفعہ تھنوں کو بند ہونے اور چھوٹا ہونے سے بھی بچا چکا ہوں۔۔ذرا سی غفلت سے جانور کا کوٸایک تھن یا دو یا چاروں تھن متاثر ہوکے ناکارہ ہو سکتے ہین۔اس لیے جتنا جلدی ممکن ہو سکے۔جانورکا بروت علاج کرین۔ایلو پیتھی طریقہ علاج تو بہتر طور پے ڈاکٹر حضرات ہی بتا سکتے ہین کیونکہ مین ڈاکٹر نہین ایک فارمر ہوں اور ادنا سا محقق۔لیکن یہاں مین کچھ اپنے تجربات اور علاج ضرور شٸر کروں گا جس سے اس بیماری سے متاثر جانورکا علاج ممکن ہو سکتا یے اور اس کے تھنوں کو بند ہونے اور سے بچایا جا سکتا ہیے۔۔
ایلوپیتی طریقہ علاج مین جونہی جانور متاثر ہو بروقت اچھے سے اچھا اینٹی بایوٹک انجیکشن لگاین۔اماکسسلین انجیکشن 3دن 30سی سی لگاین اچھی کمپنی آ
ٸ سی آٸ یا سٹار لیباٹریز یا سییل مور یا نووان کا۔ اس کے ساتھ فارمولے کو زیادہ موثر بنانے کے لیے ساتھ کوٸ اور اینٹی باہیوٹک انجیکشن ساتھ لگاین۔۔ساتھ فایبرو فیٹ سیرپ دن میں دو دفعہ دین 3 دن۔برف کی ٹکور کرین حوانہ پے دن مین تین دفعہ۔حوانہ کو ٹھنڑے پانی سے دھویں۔۔اس کےساتھ چند ایک دیسی نسخہ جات لکھ رہا ہوں جو میرے ذاتی تجویز کرردہ ہیں جن کو مین نے بہت تحقیق اور تمام اجزا کی تاثیر تحریک سمی اثرات تریاق کو جانچ کے اور تحقیق کر کے ترتیب دیا ہیے اور جادوٸاثرات بھی دیکھنے کو ملے۔۔
نسخہ نمبر 1: ہرمل50گرام۔کوڑ جیری 50 گرام کالی مرچ۔50 گرام۔مصری 250 گرام سب چیزوں کو پیس کے ایک کلو گا
ۓکےددھ مین شامل کر کے روز دیں 3 دن۔
نسخہ نمبر 2:
250 گرام سرخ مرچ کو 2 کلو پانی میں ابال کے۔جوشاندہ بنا لں مرچ کو اچھی طرح پانی میں مسلین۔اور پھر دین جانور کو تین دن۔۔
نسخہ نمبر 3: لہسن 250 گرام مکھن 200 گرام تیل سرسوں سب کو ایک کلو دودھ مین شامل کر کے دین تین دن۔ یہ تین نسخے اکٹھے استعمال کیے جا سکتے ہین صبح دوپہر شام ایک ایک نسخہ استعمال کریں
نسخہ نمبر 4:
سرسوں 250 گرام پیس کے ایک کلو ٹھنڑی لسی مین شامل کر کے دیں۔2 دن۔سوزش کے لیے زبردست نسخہ ہیے فوراً سوزش اتارتا ہیے کالی مرچ سے بھی زیادہ تیزیسے کام کرتا ہیے۔.
نسخہ نمبر 5:
صرف بیرونی اسعمال کے لیے:50 گرام گل کیسو ۔50 گرام اجواین خراسانی 100 گرام نیم کے پتے 100 گرام نمک 200 گرام گندم کے اٹے کا چھان۔4 کلو پانی میں ڈال کر ججوشاندہ بنا لین اور نیم گرم سے اس مین کپڑا ڈبو کے حوانہ کی مالش کرین دن میں تین دفعہ کم از کم 10 10 منٹ۔دو دن۔۔نوٹ اس مین اجواین خراسانی ایک زہیریلے اثرات رکھنے والا مفرتات ہیے اس لیے اس نسخے کا صرف بیرونی استعمال کرین۔۔شکریہ۔
میں کو
ٸ مصنف نیں ہوں میری تحریر میں غلطیاں ہوں گی اس لیے تنقید کی بجاۓاصلاح کیجیے گا۔
تحقیق و تحریر:” ارشد خان

About admin

Check Also

پلورونمونیا بھیڑ بکریوں کی انتہائی متعدی اور جان لیوا مرض کیسے بچاو کریں گے

پلورو نمونیا/سی سی پی پی پلورونمونیا بھیڑ بکریوں کی انتہائی متعدی اور جان لیوا مرض …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *