Home / Buffalo & Cows / آپ کی گائے یا بھینس نے ابھی بچہ دیا ہے تو آپکو کیا کرنا چاہئے؟ 6 باتیں

آپ کی گائے یا بھینس نے ابھی بچہ دیا ہے تو آپکو کیا کرنا چاہئے؟ 6 باتیں


جانور کی پیدائش سے زچگی تک کا سفر
بصد احترام گروپ کے تمام معزز ممبران کو السلام عليكم
آج پہلی قسط پیش خدمت ہے
آپ کی گائے یا بھینس نے ابھی بچہ دیا ہے تو آپکو کیا کرنا چاہئے؟
سب سے پہلے بچے کو ماں کے سامنے رکھیں اور اسکو چاٹنے دیں۔ ایسا کرنے سے بچے کے جسم میں دوران خون تواترسے شروع ہو جاتا ہے۔ بلپ سکر(Bulp sucker) سے بچے کے منہ اور ناک سے تمام رطوبت کھینچ کر صاف کریں۔ ماں کے جیر پھینکنے کا انتظار کئے بغیربچے کو چاروں تھنوں سے بوھلی پلائیں۔ چاروں تھنوں سے ۲’۲دھاریں نکال کر تسلی کریں کہ کسی تھن سے خراب یا بدبودار مواد نہ آرہا ہو۔ ماں کو فوراًاچھا ونڈا اور DCP پاؤڈر مکس کر کے کھلائیں ایسا کرنے سے آپکا جانور سوتک یا Milk fever سے محفوظ ہو جائے گا۔ بچے کے لئے پکا فرش یا ربڑ میٹ بہت ضروری ہے اگر جیب اجازت دے تو4*2.6 کا پنجرہ بنوا لیں تاکہ وہ مٹی کھانے سے بچ سکے۔ جب تک بوھلی ہو پیٹ بھر کر پلائیں اور دودھ بن جانے کے بعد کم از کم دن میں 2 بار ڈھائ سے تین کلو دودھ ا ٹائم کا پلائیں ساتھ ہی ا برتن میں صاف پانی اور کاف سٹاٹر رکھیں۔ منرلز اور وٹامنز بھی کاف سٹارٹر میں مکس کر کے ڈالیں تاکہ بچے کو اسکی ضرورت کے مطابق غذائ اجزاء مل سکیں۔ ایسا کرنے سے بچے کی قوت مدافعت میں حیران کن حد تک اضافہ ہو گا۔ بچے کو سبز چارہ ہرگز مت کھلائیں بلکہ ا ماہ تک صرف دودھ اور کاف سٹارٹر کے علاوہ کچھ مت دیں۔ اماہ کا ہو جانے کے بعد خشک گھاس (لوسن۔ برسیم۔روڈزگراس۔جئ یا “سریڈ، پہاڑی علاقے کے گھاس کی اقسم”) باریک کتر کر کاف سٹارٹر میں مکس کریں۔ بچے کی عمر ا ماہ ہو جانے پر اسکو پیٹ کے کیڑوں کی دوائ بمطابق وزن پلائیں۔ بچوں کے لئے ہلکی اور اچھی دوائ کا انتخاب کریں جیسا ک ” Hunter ( 10(Fenbendazole یا Albedazole” دوائ کی مقدار وزن کے مطابق تجویزکردہ خوراک سے ذیادہ نہ پلائیں۔ ایک بہت ہی اہم بات جو آج سے پہلے شاید آپ نے کبھی کسی سے سنی بھی نہیں ہو گی۔ (سہاگہ گرم توے پر پھل کر کے شیشے کی بوتل میں رکھیں) اور ا چائے کا چمچ روزانہ دودھ میں شامل کرکے بچے کو پلائیں۔ اس کی افادیت پر لکھنا اس نشست میں ممکن نہیں ہے۔ پھر کبھی روشنی ڈالوں گا اس پر ان شاءَللّٰہ۔ جب بچہ دو ماہ کا ہو جائے تو دوددھ آہستہ آہستہ کم کرتے ہوئے 15 دن میں مکمل بند کر دیں اور کاف سٹاٹر کے ساتھ خشک گھاس پر پالیں۔ بچے کو موسم کی مناسبت سے بیماریوں سے بچاؤکی ویکسین کروا دیں۔ چار ماہ تک یہی خوراک جاری رکھیں اور چار ماہ کی عمر میں دوبارہ کرم کش ادویات پلائیں
یہاں سے آگے فیز نمبر 2 ہے جو ان شاءَللّٰہ جلد ہی آپ بھائیوں کی خدمت میں پیش کروں گا
میرے حق میں دعا آپکی طرف سے میرے لئیے بہترین حدیہ ہوگی
دعاگو: ڈاکٹر آفتاب احمد خان
آج سلسلہ وار بچھڑیوں کی نگہداشت کے متعلق دوسری قسط پیش خدمت ہے
جیسا کہ پچھلی پوسٹ میں آپکی بچھڑی یا کٹّی 4ماہ کی ہو چکی ہے تو اب اس کی خوراک میں تبدیلی کا وقت آچکا ہے لیکن اس سے پہلے بچے کو (بروسیلا یا Brucellosis) جیسی موذی بیماری سے بچاؤ کا حفاظتی ٹیکہ لگوا لیں
چار ماہ کی عمر کے بعد بچے کی لمحیات یعنی protein کی ضرورت 21%سے کم ہو کر %14 رہ جاتی ہے لیکن توانائ یعنیenergy کی ضرورت میں خاطر خواہ اضافہ ہو جاتا ہے یہی وہ وقت ہے جب اکثر بچے غیر متوازن خوراک کی وجہ سے اپنی مطلوبہ صحت اور جسامت کا ہدف پورا نہیں کر پاتے
یاد رکھیں کہ ا دن کی خوراک کی کمی آپکو ا لیٹر دودھ سے محروم کر دیتی ہے 10-4 ماہ کی عمر کسی بھی جانور کی پیداواری ذندگی میں بہت ہی اہم ہوتی ہے اس عمر میں لا پرواہی جو سب سے بڑا نقصان کرتی ہے وہ سن بلوغت میں تاخیر ہے۔ آپکی بچھڑی ۱۰ ماہ اور کٹّی 14 ماہ کی عمر میں حاملہ ہونے کے لئیے پوری طرح تیار ہونی چاہئے تاکہ وہ ۲۰-۲۵ ماہ کی عمر میں دودھ دینا شروع کردے۔ بڑے فارمر تو یہ ہدف پورا کر لیتے ہیں لیکن چھوٹے فارمر اور کسان بھائ غفلت سے اپنا وقت اور جانور دونوں کو برباد کر بیٹھتے ہیں خصوصاً کٹئیوں میں یہ روٹین عام دیکھنے کو ملتی ہے لہٰذا 12-4 ماہ کی عمر کے بچوں کو مناسب خشک اور سبز چارہ پیٹ بھر کے اور ونڈا 2 کلو سے بتدریج بڑھاتے ہوئے 4کلو تک لے جائیں ساتھ شیرہ راب ۱/۲ کلو سے اکلو تک فی جانور ضرور کھلائیں DCP پاؤڈراور منرل مکسچر اور ملٹی وٹامن لگاتار دیتے رہیں ساتھ میں بائ پاس فیٹ ۵۰گرام فی جانور کا اضافہ کریں۔ جانوروں کو کھلا رکھیں یاپانی 24 گھنٹے ان کے سامنے رکھیں۔ کھرلی میں نمک کی ڈلی رکھیں نر اورمادہ جانور علیحدہ رکھیں اور جب تک بچے پہلی بار وھیگ یا heat میں نہیں آجاتے تب تک اسی خوراک کو جاری رکھیں۔ ا بات اور بتاتا چلوں کی وھیگ یا heat کا تعلق ہر گز ہر گزجانور کے درجہ حرارت کے بڑھنے سے تعلق نہیں ہے بلکہ یہ ایک قدرتی اور سائنسی عمل ہے جو جانور کے اعضائے تولید کی مکمل نشونما ہونے کے بعد ہی عمل میں آتا ہے۔ میں نے کافی لوگوں کو جانور کوہیٹ میں لانے کے لئے گرم چیزوں کے استعمال جیسی بے پر کی ہانکتے سنا ہے جو کہ قدرت اور سائنس دونوں کے خلاف ہے۔ یہ سب ہارمونز کا کھیل ہے جس کو مستند لوگ ہی سمجھ پاتے ہیں تو آپ وہ کام کریں جو آپ آسانی سے کر اور سمجھ سکتے ہیں۔ امید ہے کہ جو لوگ میری بات مانیں گے وہ فائدے میں رہیں گے اور اپنے جانوروں کی بہترین صحت اور پیداواری صلاحیت سے فیض یاب ہوں گے
اگلا مرحلہ بہت دلچسپ اور علم سے بھرپور ہے بس آپ بھائیوں کا تعاون اور دعا چاہئے
دعاگو: ڈاکٹر آفتاب احمد خان
آج سلسلہ وار بچھڑیوں کی نگہداشت کے متعلق تیسری قسط پیش خدمت ہے
جیسا کہ پچھلی پوسٹ میں آپکی بچھڑی یا کٹّی 10 ماہ کی ہو چکی ہے تو اب اس کی وہیگ کے متعلق خیال کرنے کا وقت ہے۔ ان بچھڑیوں میں اب آپکو غیر معمولی تبدیلیاں نظر آنا شروع ہو جائیں گی جیسا کہ ا دوسری کو پیچھے سے سونگھنا سر کے سامنے سے سر لگانا اور پھر چھلانگیں لگانا اور بھاگنا۔ ان میں سے کچھ عادتیں پہلے جیسی ہی ہونگی لیکن معمولی سا فرق ہو گا۔ پھر یہ بچھڑیاں ا دوسرے پر سامنے اور پیچھے سے جمپ کرنا شروع کریں گی یہی وہ وقت ہے جب آپکی مکمل توجہ اپنے جانوروں نوٹ بک اور گھڑی کی طرف ہونی چاہیئے
غور کریں کہ کس جانور میں بے چینی ہے۔ پیشاب والی جگہ (vulva) سرخ اور سوجی ہوئ ہے اور اس نے پہلی بار کسی دوسرے جانور پے کس وقت جمپ کی۔ اس وقت کو نوٹ فرمالیں.اب انتظار کریں کہ وہ جانور کس وقت دوسرے جانور کے آگے خود کھڑی ہوتی ہے اور دوسرے کو اپنے اوپر جمپ کرنے دیتی ہےاور آگے سے ہلتی نہیں ہے۔پیشاب والی جگہ سے پانی کے رنگ والا چمکدار لیس دار مادہ کا اخراج ہو گا جو زمین تک گرنے پر بھی تار نہیں توڑے گا۔ یہاں سے وہ وقت شروع ہو جاتا ہے جس میں آپ اپنے جانور کو مصنوعی تخم ریزی یا قدرتی طریقہ ملائ کروا سکتے ہیں۔ جانور کو حاملہ کروانے کے لیے اب سے مزید ۸ گھنٹےبہترین وقت ہے۔ اس وقت آپ اپنی بچھڑی یا کٹی کو انجیکشن (dalmarelin یا سیریلین یا کنسپٹال یا کوئ بھیGNRH analoug) لگا دیں اور ٹھیک چار گھنٹے بعد مصنوعی تخم ریزی یا قدرتی ملاپ کروا دیں ان شاءَللّٰہ جانور کے حاملہ ہونے کے چانس 80 فیصد تک ہو جاتے ہیں۔ میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ مصنوعی تخم ریزی کروائیں تاکہ آنے والا بچہ اپنی ماں سے بہتر ہو۔ اگلی پوسٹ میں ان شاءَللّٰہ سیمن منتخب کرنے کا طریقہ اور اس کے اصلی اور جعلی ہونے کا پتہ کرنے کا طریقہ اور تخم ریزی کی احتیاطیں اور تخم ریزی کروانے کے بعد کی حکمت عملی پر تحریر کروں گا۔ آپ سب بھائیوں کے تعاون اور دعاؤں کا طلبگار; ڈاکٹر آفتاب احمد خان
آج سلسلہ وار بچھڑیوں کی نگہداشت کے متعلق چوتھی قسط پیش خدمت ہے
جیسا کہ گذشتہ قسط میں ہم نسل کشی کے پہلے مرحلہ میں داخل ہو چکے تھے تو اسی تواتر میں کچھ ایسے اقدام جن سے آپکی شناسائ اشد ضروری ہے درج ذیل ہیں
۱۔ سیمن کا انتخاب
۲۔ ماہر مصنوعی تخم ریزی ٹیکنیشن
۳۔ طریقہ تخم ریزی کا مکمل ادراک
۴۔صفائ کا خیال
۵۔سیمن رکھوانے کے لیئے صحیح جگہ کا انتخاب
۶۔ قدرتی ملاپ کے لئے سانڈ کا انتخاب
۷۔ سانڈ کی صفائ
۸۔تخم ریزی کے بعد کی احتیاط
۹۔ حمل کی ابتدائ تشخیص
سب سے پہلے اپنے جانور کی خامیوں کا احاطہ کریں۔ جیسے اس کی ماں کا دودھ کم تھا۔ اس بچھڑی کی ٹانگیں کمزور ہیں۔ اس کی ماں کا حیوانہ مضبوط اور خوبصورت نہیں تھا۔ قد درمیانہ ہے۔ اس کی ماں کی بیل (لمبائ) کم تھی۔ ان ساری چیزوں کو مدنظر رکھ کر سیمن کا انتخاب کریں تاکہ اس کی اگلی نسل سے یہ خامیاں دور ہو جائیں۔ پہلے ٹیکنیشن سے سیمن بل کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کریں اور اس کا گراف دیکھیں جیسا کہ تصویر میں دکھایا گیا ہے۔ اس کی خصوصیات مثبت میں ذیادہ اور منفی میں کم ہونی چاہئیں۔ اس کا SCE سکور 7 سے ذیادہ ہو تو بچھڑیوں میں بچہ بڑے سائز کا ہو گا جو پیدائش میں مشکل کا سبب بن سکتا ہے۔ البتہ بڑی گائیوں میں اتنا فرق نہیں پڑتا۔ PTAT +2 ہونا چاہئیے۔ اگر جیب اجازت دے تو کم از کم پہلی بار sexed ultra 4M لگوائیں۔ تسلی کریں کہ جو سیمن آپ پسند کریں وہی لگے۔
ٹیکنیشن تجربہ کار ہو اور جانور کو ذیادہ دیر تک تنگی نہ ہو اور کوشش کریں کہ ٹیکنیشن سے حاملہ کرنے کا ٹھیکہ کر لیں۔ ایسا کرنے سے آپکا جانور وقت پے حاملہ بھی ہو جائے گی اور ٹیکنیشن کے حربوں سے بھی بچت ہو جائے گی
آپکو خود بھی معلوم ہونا چاہئیے کہ تخم ریزی کا صحیح طریقہ کیا ہے۔ سب سے پہلے نیا گلوز یعنی دستانہ پر اصرار کریں۔ چکنائ کے لئیے لیکوڈ پیرافین خود دیں۔ صابن یا گوبر سے دستانہ نہ لگانے دیں۔ ٹشو پاس رکھیں۔ سیمن کو 40 سیکنڈ کے لئے 37 ڈگری والے گرم پانی میں پڑا رہنے دیں اس سے حمل کی شرح ۳۰فیصد تک بڑھ جاتی ہے۔ ٹشو سے سیمن خشک کر کے ٹیکنیشن کو دیں۔ پیشاب والی جگہ دھو کر ٹشو سے خشک کریں۔ یاد رکھیں پانی۔ گوبر۔صابن اور سرسوں کا تیل سپرم کش ہیں اس لیئے اس کے استعمال سے بچیں۔ اب ٹیکنیشن کو اپنا کام کرنے دیں۔ اللّٰہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اس تخم سے پیدا کرنے والا تیرے سوا کوئ نہیں تو ہم پر اوراس جانور پر برکت نازل فرما۔ تخم ریزی کے بعد خالی سیمن سٹرا سنبھال کر رکھیں اور اس کے اوپر درج معلومات کو google پے چیک کریں تاکہ پتا لگے کہ آپ نے جس سانڈ کا سیمن لگوایا ہے اس کی کیا خصوصیات ہیں
تخم ریزی کے لیے ہمیشہ سایہ دار جگہ کا انتخاب کریں۔ پکا فرش ہو اور جانور کو ایسے قابو کیا جائے کے اسکا پچھلا حصہ بالکل نہ ہل سکے
قدرتی طریقہ ملاپ کے لئے جس سانڈ کا انتخاب کریں اس کے جسم پر خاطر خواہ چمک ہو۔ آنکھیں صاف اور چمکدار ہوں۔ سانڈ چست اور ملاپ کے لئے جلد بازی کرنے والا ہو۔ اس کے خصیوں(testicles) کا قطر 30 سینٹی میٹر سے کم نہ ہو۔ فریزین سانڈ کی کمر سیدھی اور دم چھوٹی ہو اور کھال باریک ہو۔ دیسی سانڈ کی کوہان واضح ہو۔ کھال موٹی ہو اور دم لمبی اور موٹی ہو۔ کراس والا سانڈ مت استعمال کریں ما سوائے بھینسوں میں نیلی راوی کراس کےسانڈ کے۔ ملاپ سے پہلے سانڈ پوری طرح پیٹ بھر کے چارہ نہ کھائے بلکہ ملاپ کے بعد اس کو اچھا چارہ اور ونڈا کھلائیں اور آرام کے لئیے کچی جگہ میسر ہو۔ ملاپ کے بعد سانڈ کے نفس کو آئیوڈین اور پانی کے سلوشن سے دھو دیں
ملاپ یا تخم ریزی کے بعد بچھڑی یا گائے یا بھینس کی کمر پر پانی ڈالیں یہاں تک کہ کمر ٹھنڈی ہو جائے۔ جانور کو 2’3 گھنٹے بیٹھنے مت دیں۔ دوسرے جانوروں سے ۲ دن کے لئیے علیحدہ رکھیں۔ خوراک پوری دیں خصوصاً سبز چارہ اور منرل کے ساتھ ساتھ ونڈا بھی دیں۔ جانور کو موسم کی شدت سے محفوظ رکھیں۔ دوسرے یا تیسرے روز پیشاب والی جگہ سے گاڑھے لیس دار خون کا اخراج فطرتی ہے اس میں پریشانی کی کوئ بات نہیں ہوتی۔
حمل کی شروعاتی علامات میں جانور کا تھوڑا سست ہونا۔ دم کا پیشاب والی جگہ کے عین اوپر کی بجائے ہلکا سا سائیڈ پے رکھنا۔ خوراک جلدی جلدی کھانا اور ذیادہ دیر بیٹھ کے آرام کرنا۔ تخم ریزی کے اکیسویں دن دوبارہ وہیگ یا ہیٹ میں نہ آنا۔ یہ سب علامات خوشخبری کی طرف اشارہ ہے۔ پہلی تخم ریزی کے ۲ ماہ بعد مستند اور تجربہ کار ٹیکنیشن سے تشخیص حمل یا الٹرا ساؤنڈ کروا لیں اور مثبت آنے کے بعد خوراک میں ردوبدل کریں۔ خوراک کے بارے میں اگلی پوسٹ میں روشنی ڈالی جائے گی ان شاءَللّٰہ
آپ سب بھائیوں سے تعاون اور دعا کی درخواست ہے
دعاگو; ڈاکٹر آفتاب احمد خان
آج سلسلہ وار بچھڑیوں کی نگہداشت کے متعلق پانچویں قسط پیش خدمت ہے
یہاں پر دو طرح کی معلومات درکار ہیں
۱اگر تو جانور حاملہ ہے تو اس کی خوراک کیا ہونی چاہئے
۲اگر حمل نہیں ٹھہر رہا تو اس کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں
پہلے جن خوش نصیبوں کی بچھڑی یا کٹی حاملہ ہو گئی ہیں ان کی خوراک پے روشنی ڈالتے ہیں
وزن حاملہ جانور تقریباً 250-300 کلوگرام
خشک چارہ جات
لوسن۔ برسیم ۔روڈزگراس یا سریڈ کی 5 کلوگرام Hay
یا سبز چارہ
مکئ۔ جوار۔ جوی۔برسیم۔لوسن یا روڈز گراس 25 سے ۳۰کلوگرام۔ اگر برسیم ہو تو اس میں توڑی یا کوئ خشک چارہ جو بھی دستیاب ہو ۲-۳ کلو ضرورشامل کر لیں
یا
سائلیج ۱۵ کلوگرام
اب ونڈا ۲ کلو گرام سے بتدریج بڑھاتے ہوئے ۳ کلو تک لے جائیں جو حمل کے آٹھویں ماہ تک جاری رہے گا۔
حاضرخدمت ہے ونڈا کے اجزاء مع تناسب تصویر میں دیکھئے
دوسری اہم بات یہ ہے کہ حاملہ جانور کو آرام کے لیئے مناسب کچی جگہ فراہم کریں اور اسکی صفائ کو یقینی بنائیں۔ جانور کو 24 گھنٹے تازہ پینے کا پانی فراہم کریں۔ کھرلی میں نمک ہر وقت موجود ہو۔ بروقت بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسین لگواتے رہیں۔
اب آتے ہیں حاملہ نہ ہونے والے جانوروں کی طرف
۱یا ۲ بار جانور کا حاملہ نہ ہونا پریشانی کی بات نہیں ہے لیکن اس سے ذیادہ ہو تو واقعی فارمر کےلئے پریشانی کی بات ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اتنی اچھی خوراک اور دیکھ بھال کے باوجود کیا وجہ ہو سکتی ہے
۱کیا جو سیمن آپ استعمال کر رہے ہیں اس سے کوئ اور جانور حاملہ ہوئ ہے؟
۲جس سانڈ سے ملاپ ہوا اس سے پہلے اس سانڈ سے کوئ اور جانور حاملہ ہوئ ہے؟
۳اپنے جانور کو ماہر مصنوعی تخم ریزی سے چیک کروائیں کہ اس کے رحم میں کوئ سوزش( انفیکشن) تو نہیں ہے۔ ایسی صورت میں قریبی سرکاری ہسپتال کے ویٹرنری افسر کی خدمات حاصل کریں اور اس کے مشورہ کے مطابق جو اینٹی بائیوٹک وہ منتخب کرے اس کا استعمال کریں۔
۴اگر الٹرا ساؤنڈ کی سہولت میسر ہو تو ضرور رحم کی تشخیص کروا لیں تاکہ بروقت صحیح سمت میں علاج ممکن ہو
۵بعض اوقات جانوروں میں Delayed ovulation ہوتی ہے جس کی وجہ سے جانور حاملہ نہیں ہو پاتی اور سیمن ضائع ہو جاتا ہے۔ اس کا تدارک صرف Gnrh ہارمون لگانے سے ہو سکتا ہے جیسا کہ پچھلی پوسٹ میں بتایا جا چکا ہے۔
۶رحمم میں ایمبریو کا نہ چپکنا بھی جانور کے وضع حمل میں مانع ہو سکتا ہے جو جانوروں میں یورک ایسڈ کی مقدار بڑھ جانے کی صورت میں ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں جانوروں کی خوراک میں اضافی میٹھا سوڈا شامل کیا جائے تو تیزابیت کا تدارک کیا جاسکتا ہے
۷جانور اگر ایک بار وہیگ میں آنے کے بعد بے قاعدگی سے ۱۰-۱۵ دن بعد دوبارہ وہیگ میں آجائے تو ایسی صورت میں بھی Gnrh ہارمون کا استعمال کرنے سے وہیگ کو درست وقت پر لایا جا سکتا ہے۔
مذید اگر کسی کو کچھ پریشانی ہو تو comments میں مجھے مینشن کر دیں تاکہ اگلی پوسٹ میں اس کا مکمل تدارک ہوسکے
آپکی دعاؤں کا طلبگار; zaman ch
بصد احترام گروپ کے تمام معزز ممبرز کو السلام و علیکم۔ بمطابق وعدہ پیش خدمت ہے جانور کے سونے (بیانت یا زچگی) اور اس میں آنے والی مشکلات اور ان کا حل
جب بھی کوئی جانور پہلی بار بچہ دیتا ہے تو اس کے جسم میں غیر معمولی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جن کو قبول کرنا جانور کے لئیے بعض اوقات مشکل ہوتا ہے مثلاً جانور کا بچے کو دودھ نہ پینے دینا یا مالک کو دودھ نہ دوھنے دینا۔ ایسے میں کبھی بھی جانور کو ماریں مت بلکہ اسے پیار سے ڈیل کریں۔ بچے کو آٹا یا ونڈا لگا کر جانور کے آگے کھڑا کر دیں۔
دوسری مشکل (مشکل ولادت یا Dystocia) ایسی صورت ذیادہ تر پہلی بار سونے والی بچھڑیوں میں ہوتی ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا تھا کہ بچھڑیوں کو calving ease یعنی چھوٹےسائز کے بچے پیدا کرنے والے سانڈ کا سیمن رکھوانا چاہئے تو یہ مشکل آتی ہی نہیں۔ اب جن جانوروں کا قدرتی ملاپ ہوا تھا اور ان میں یہ مسئلہ آئے تو اس کی نشانی یہ ہو گی کہ جانور زچگی کے وقت اپنی دم اٹھا لے گی اور بار بار پیچھے مڑ کر دیکھے گی۔ بار بار بیٹھے گی اور زور لگائے گی جس سے اسکا واٹر بیگ پھٹ جائے گا اور( amniotic fluid) متراکہ باہر آجائیگا لیکن بچے کے کھر نہیں آیئں گے۔ ایسی صورت میں وقت ضائع کئے بغیر کسی ماہر ڈاکٹر یا اسسٹنٹ کی خدمات حاصل کریں۔ اگر آپ خود تجربہ کار ہیں تو بھی اس وقت تک خود کوشش نہ کریں جب تک کہ آپ کو خود پر 100فیصد یقین نہ ہو اور پہلے آپ اس طرح کا کوئ کیس حل کر چکے ہوں یا بہت قریب سے اس کا مشاہدہ کر چکے ہوں کیونکہ آپکا جانور ڈاکٹر کی فیس سے ذیادہ قیمت کا ہے۔ اس طرح کی زچگی کے بعد رحم کی سوزش کا سو فیصد چانس ہوتا ہے لہٰذا بچہ جننے والے جانور کا بغور مشاہدہ جاری رکھیں تاکہ آپکو پتا چلے کہ جانور نے جیر پھینک دی ہے یا نہیں۔ اگر نہیں پھینکی یا پس پڑ گئ ہو یا بدبو ار مواد کا اخراج ہو رہا ہوتو وقت ضائع کیے بغیر اس کے رحم کی صفائی کروا دیں اور اینٹی بائیوٹک (ceftiofur sodium )
5دن تک لگائیں۔ رحم کی صفائی زچگی کے 24 گھنٹے کے بعد کروا لیں تاکہ اگلے مرحلے یعنیtransition period میں آپکا جانور اندرونی طور پر مکمل صحت یاب ہو جائے اور آپ اس کی پیداواری صلاحیت کا بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔
تیسری مشکل
بچے دانی کا بل کھا جانا(torsion)
یہ مسئلہ ذیادہ تر بھینسوں میں آتا ہے اس کی نشانیاں بھی تقریباً dystocia والی ہی ہیں لیکن اس میں جانور کی بچہ دانی بل کھا جاتی ہے اور زچگی کا عمل مکمل نہیں ہو پاتا بلکہ بچے کے مرنے کا خدشہ ہوتا ہے اور ماں کے لیئے بھی خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ وقت ضائع کیئے بغیر ڈاکٹر سے رجوع کریں تاکہ ماں اور بچہ دونوں کی جان بچ جائے
چوتھی مشکل
سوتک یا ملک فیور
جانور کے سونے کے بعد سب سے بڑا مسئلہ کیلشیم اور فاسفورس کی کمی کا ہوتا ہے جس کی وجہ سے جانور کا جسمانی درجہ حرارت کم ہو جاتا ہے اور نتیجتاً گائے یا بھینس بیٹھ جاتی ہے۔ ایسے میں جانور کو سب سے پہلے گرم رکھیں اور milfon c ڈرپ اور انجیکشن ڈیکا فوسفان لگوائیں ساتھ میں ونڈا کے ساتھ منرلز مکسچر اور DCP کی دوگنی خوراک کم از کم ایک ہفتہ تک کھلائیں۔ اس کے بعد اچھی اور متوازن خوراک دیں۔ زیر نظر تصاویر میں پہلے 21 دن کا ونڈا بھی شامل ہے اس کے ساتھ 100گرام میتھرے پیس کر روزانہ 21 دن تک کھلائیں تاکہ آپ اور آپکے جانور دونوں خوشحال رہیں پانچویں مشکل
(Uterine prolaps) یا
بچے دانی کاباہر نکل جانا
ایسی صورت میں رحم بچے کے ساتھ ہی باہر نکل جاتا ہے۔ ایسی صورت میں بھی فوراً ڈاکٹر ے رجوع کرنا چاہئے ۔ اس طرح کے جانور میں دوبارہ حاملہ ہونے کے چانس
۱۰ فیصد رہ جاتے ہیں لہٰذا اس طرح کے جانور کو دودھ کم ہوتے ہی بیچ دینا چاہئیے۔ زیر نظر تصاویر میں کافی حد تک معلوماتی مواد ہے امید ہے آپ سب دوست ان معلومات سے بھرپور استفادہ حاصل کریں گے۔
طالب دعا و تعاون
ڈاکٹر آفتاب احمد خان
سلسلہ وار بچھڑیوں کی نگہداشت کے متعلق چھٹی قسط پیش خدمت ہے
گزشتہ پوسٹ میں آپکی بچھڑی یا کٹّی 8 ماہ کی گبھن یا حاملہ ہو چکی ہے اور اب وقت ہے اس کے نسوانی حسن میں اضافہ کرنے کا تاکہ وہ بچہ پیدا کرنے اور اس کے بعد والی کیفیت میں اپنا مدافعتی نظام فعال بنا سکے اور بھرپور پیداوار ممکن ہو سکے۔ یہاں جو بات یاد رکھنے والی ہے وہ خوراک میں تھوڑی ردوبدل کر کے اس کے تولیدی نظام کو ذیادہ مضبوط اور سونے کے بعد جلد از جلد صاف کرنے میں کلیدی کردار ادا کروانا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اس وقت جانور کی خوراک بہت کم ہو جاتی ہے اور اس کم خوراک میں غذائ ضروریات کو پورا کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ ساتھ ساتھ جانور کے حیوانہ کی نشونما بھی متاثر ہوتی ہے ایسی حالت میں جانور کو دی جانے والی خوراک بہت احتیاط طلب ہے۔ آپ سب کی سہولت اور جانوروں کی بہتری کے لئے غذائ آمیزہ کا فارمولہ پیش خدمت ہے
اب چارہ میں بھی ردوبدل درکار ہے۔ سبز چارہ مکمل بند کر دیں یا صرف تھوڑا سا ڈالیں۔
ھے۔ روڈز گراس۔ رائ گراس۔ جوی۔ لوسن۔ سریڈ یا برسیم 7-5 کلو فی کس جانور کے وزن کے مطابق۔ اور دن میں ۳ بار خوراک ڈالیں تاکہ جانور تھوڑی خوراک کھا کر اسے ہضم کر لے اور دوبارہ بھی جلد بھوک لگنے پر خوراک سامنے پائے۔
یہ خوراک جانور کے بچہ جننے تک جاری رکھیں اور گائے میں 260 اور بھینس میں 295 دن ہونے پر
آج سلسلہ وار بچھڑیوں کی نگہداشت کے متعلق پانچویں قسط پیش خدمت ہے
یہاں پر دو طرح کی معلومات درکار ہیں
۱اگر تو جانور حاملہ ہے تو اس کی خوراک کیا ہونی چاہئے
۲اگر حمل نہیں ٹھہر رہا تو اس کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں
پہلے جن خوش نصیبوں کی بچھڑی یا کٹی حاملہ ہو گئی ہیں ان کی خوراک پے روشنی ڈالتے ہیں
وزن حاملہ جانور تقریباً 250-300 کلوگرام
خشک چارہ جات
لوسن۔ برسیم ۔روڈزگراس یا سریڈ کی 5 کلوگرام Hay
یا سبز چارہ
مکئ۔ جوار۔ جوی۔برسیم۔لوسن یا روڈز گراس 25 سے ۳۰کلوگرام۔ اگر برسیم ہو تو اس میں توڑی یا کوئ خشک چارہ جو بھی دستیاب ہو ۲-۳ کلو ضرورشامل کر لیں
یا
سائلیج ۱۵ کلوگرام
اب ونڈا ۲ کلو گرام سے بتدریج بڑھاتے ہوئے ۳ کلو تک لے جائیں جو حمل کے آٹھویں ماہ تک جاری رہے گا۔
حاضرخدمت ہے ونڈا کے اجزاء مع تناسب تصویر میں دیکھئے
دوسری اہم بات یہ ہے کہ حاملہ جانور کو آرام کے لیئے مناسب کچی جگہ فراہم کریں اور اسکی صفائ کو یقینی بنائیں۔ جانور کو 24 گھنٹے تازہ پینے کا پانی فراہم کریں۔ کھرلی میں نمک ہر وقت موجود ہو۔ بروقت بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسین لگواتے رہیں۔
اب آتے ہیں حاملہ نہ ہونے والے جانوروں کی طرف
۱یا ۲ بار جانور کا حاملہ نہ ہونا پریشانی کی بات نہیں ہے لیکن اس سے ذیادہ ہو تو واقعی فارمر کےلئے پریشانی کی بات ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اتنی اچھی خوراک اور دیکھ بھال کے باوجود کیا وجہ ہو سکتی ہے
۱کیا جو سیمن آپ استعمال کر رہے ہیں اس سے کوئ اور جانور حاملہ ہوئ ہے؟
۲جس سانڈ سے ملاپ ہوا اس سے پہلے اس سانڈ سے کوئ اور جانور حاملہ ہوئ ہے؟
۳اپنے جانور کو ماہر مصنوعی تخم ریزی سے چیک کروائیں کہ اس کے رحم میں کوئ سوزش( انفیکشن) تو نہیں ہے۔ ایسی صورت میں قریبی سرکاری ہسپتال کے ویٹرنری افسر کی خدمات حاصل کریں اور اس کے مشورہ کے مطابق جو اینٹی بائیوٹک وہ منتخب کرے اس کا استعمال کریں۔
۴اگر الٹرا ساؤنڈ کی سہولت میسر ہو تو ضرور رحم کی تشخیص کروا لیں تاکہ بروقت صحیح سمت میں علاج ممکن ہو
۵بعض اوقات جانوروں میں Delayed ovulation ہوتی ہے جس کی وجہ سے جانور حاملہ نہیں ہو پاتی اور سیمن ضائع ہو جاتا ہے۔ اس کا تدارک صرف Gnrh ہارمون لگانے سے ہو سکتا ہے جیسا کہ پچھلی پوسٹ میں بتایا جا چکا ہے۔
۶رحمم میں ایمبریو کا نہ چپکنا بھی جانور کے وضع حمل میں مانع ہو سکتا ہے جو جانوروں میں یورک ایسڈ کی مقدار بڑھ جانے کی صورت میں ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں جانوروں کی خوراک میں اضافی میٹھا سوڈا شامل کیا جائے تو تیزابیت کا تدارک کیا جاسکتا ہے
۷جانور اگر ایک بار وہیگ میں آنے کے بعد بے قاعدگی سے ۱۰-۱۵ دن بعد دوبارہ وہیگ میں آجائے تو ایسی صورت میں بھی Gnrh ہارمون کا استعمال کرنے سے وہیگ کو درست وقت پر لایا جا سکتا ہے۔
مذید اگر کسی کو کچھ پریشانی ہو تو comments میں مجھے مینشن کر دیں تاکہ اگلی پوسٹ میں اس کا مکمل تدارک ہوسکے

Zaman Choudhry

About admin

Check Also

دودھ کی پیداوار اور ونڈے کا استعمال

دودھ کی پیداوار اور ونڈے کا استعمال آج کل مارکیٹ میں طرح طرح کے ونڈے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *