Home / Buffalo & Cows / دودھ والے جانور چار نظریے کے لوگ رکھتے ہیں

دودھ والے جانور چار نظریے کے لوگ رکھتے ہیں


دودھ والے جانور چار نظریے کے لوگ رکھتے ہیں ۔
1 کاروبار کے نظریئے سے
2 گھریلو ضرورت کیلئے۔
3 وراثتی زمیندار یا وراثتی ڈیری فارمر۔
4 شوقیہ ۔
1نمبر والے زیادہ تر جانور کو صرف نفع کیلئے استعمال کرتے ہیں بچوں پے بہت ظلم کرتے ہیں انہیں خوراک دودھ پورا نہیں دیتے انکی کوشش ہوتی ہے کہ جانور سے زیادہ سے زیادہ دودھ لو جانور کو بگاڑے پر لائو ٹیکہ لگائو کچھ بھی کرو دودھ لو جب نفع کم کرنے لگے بیچ دو۔
2نمبر والے زیادہ تر ایک دو جانور رکھتے ہیں گھر کی ضرورت پوری ہوتی رہے دودھ کم زیادہ ہے نہیں جانور نسلی ہے نہیں ۔ بس گھر کا گزارا چل جائے ۔ ایسے لوگ زیادہ تر دیہی علاقوں میں رہتے ہیں جانوروں کا خیال خود رکھتے ہیں ۔ لیکن بعض اوقات کم علمی کی وجہ سے جانور کا نقصان کر بیٹھتے ہیں ۔ تھن مارا گیا وغیرہ وغیرہ ۔ ایسے لوگ جانوروں کو حفاظتی ٹیکوں اور دوسری ضروری احتیاط کی پرواہ نہیں کرتے۔
3نمبر ۔ ایسے لوگوں کو جانور زمینیں وراثت میں ملتی ہیں۔
والد صاحب نے شوق سے اعلی قسم کے جانور رکھے وہ اپنی نگرانی میں جانوروں کی دیکھ رکھ کرواتے ہیں بچوں کو اس شعبے کی الف بے کا بھی پتہ نہیں ہوتا ۔ والد کے بعد ملازمین پے کام چھوڑ دیا کبھی ملازم کی کوتاہی کبھی مالک کا موڈ دیکھ کر ڈر کے مارے نوکر بتاتے ہی نہیں کہ جانور کو کوئی مسئلہ ہے ۔ ایسے لوگو کے قیمتی جانور بہت ضائع ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ اس کیٹگری میں ایسے لوگ بھی آتے ہیں جو اپنی شان سکت کیلئے جانور اچھے سے اچھا لیتے ہیں۔ یا انکے مشیر حد سے زیادہ مہنگے داموں جانور لے دیتے ہیں ۔ مالک کو خود کو اتنا پتہ نہیں ہوتا جانور لے لیا بعد کوئی پتہ نہیں کہاں ہے کس حال میں ہے۔
4 شوقین حضرات ۔ اس میں بھی دو قسم کے لوگ ہیں ۔ ایک وقتی شوقین اس کیٹگری میں معذرت کے ساتھ نوجوان طبقہ زیادہ ہے ۔ جانور لے لیا شوق سے ۔ دو دن سنبھالا بعد نوکر کے سپرد ۔
دوسرے ایسے لوگ جو جانور سے اتنا پیار کرتے ہیں ۔ اتنا شوق ہوتا ہے کہ کہ دو دو تین ملازمین کے ہوتے ہوئے بھی خود ایک ایک جانور کو خود جا کے دیکھیں گے۔ انکی ہر ضرورت پر نظر ہوگی۔ ایسے لوگوں کے جانور دیکھنے بلکہ رشک کے قابل ہوتے ہیں ۔ ایسے لوگ نفع نقصان نہیں بلکہ جانور کو دیکھتے ہیں ۔ اور ایسے لوگوں کے حق میں ہی شاید جانور بھی دعا کرتا ہوگا۔
دوستو یہ میری سوچ ہے ۔ میرا نظریہ ہے۔ نظریے سے اختلاف عام بات ہے ۔ لیکن اعتراض برائے اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ ہمیشہ تعمیری اور اصلاحی سوچ رکھنی چاہئے ۔ دوسرا جانور اللہ کی بے زبان مخلوق ہے۔ اگر انہیں اپنی ضرورت کیلئے رکھتے ہیں ۔ تو انکی ضرورت کا خیال اپنی اولاد کی طرح رکھنا چاہئے ۔

About admin

Check Also

پلورونمونیا بھیڑ بکریوں کی انتہائی متعدی اور جان لیوا مرض کیسے بچاو کریں گے

پلورو نمونیا/سی سی پی پی پلورونمونیا بھیڑ بکریوں کی انتہائی متعدی اور جان لیوا مرض …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *