Home / Lifestyle / justice For Zainab 2018

justice For Zainab 2018


ماں میرا قصور نہیں تھا

اک چاچو سے ٹافی ہی تو لے لی

بابا سا وہ لگتا تھا

مجھے بولا تم بیٹی ہو میری 

اس کے پہلو میں بیٹھ گئی میں

ٹافی کھاتی باتیں کرتی

ہاتھ میرے جو سر پر پھیرا

میں سمجھی تھی انسان ہی ہوگا

اس کی بھی کوئی بیٹی ہوگی شاید 

اس نے چوما مجھ کو

میں بھی خوش ہوکر گلے سے لگ گئی

ماں میرا قصور نہیں تھا

اک چاچو سے ٹافی لے لی.

دس کا نوٹ بھی پکڑایا تھا





مجھکو جیسے بابا یاد آیا

خوشی لیکر سوچا میں نے 

چاچو کے پیسوں سے دورپے کی

ٹافی ہے میں نے اور بھی لینی


تین روپے بھئیا کو دونگی


پانچھ کی گڑیا لینے ہے میں نے

ایسے میں وہ باتیں کرتا

مجھ کو گھر سے دور لے آیا

ماں میرا قصور نہیں تھا

اک چاچو سے ٹافی لے لی

مجھ کو کچھ بھی سمجھ نا آیا

اس نے اچانک لہجا بدلا

مجھ ہے زمین پر لٹایا

منہ میرا جو بند کیا تو

مجھ پھر معلوم نہیں تھا

چلا کر تجھ کو بلانا چاہا

ماں میرے معصوم جسم کو

چاچو نے گوشت کا ٹکڑا سمجھا

کتے کی طرح کاٹا مجھکو

بلی کی طرح وہ دیکھ رہا تھا

ماں اب میں سہہ نا پائی

تیری آج کلی مرجھاگئی 

ماں میرے ہاتھ میں دیکھو

اک ٹافی تو کھا لی میں نے

اک ٹافی ہاتھ میں ہوگی

ماں اب کے بار گر پیدا ہوؤں میں

مجھ کو خود سے دور نا کرنا      

ماں میں گوشت کا ٹکڑا تھی کیا؟

میں نے کیا مانگا تھا؟

اک ٹافی کے بدلے؟

ماں میں جان گوا کر آئی،

ماں میں چڑیا تھی تیری

اک دانے پر جان گوائی

ماں اب کے بار گر پیدا ہوؤں میں

مجھ کو خود سے دور نا کرنا!!!

مجھ کو خود سے دور نا کرنا!!!
😭😭

About admin

Check Also

کیسے پرانے ٹائر جانوروں کے بستر بن گئے

انسانوں اور جانوروں سے رحم کا جذبہ وہ خصوصیت ہے جو کسی بھی انسان کو …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *